
اے ایم یو میں جانی فوسٹر کے شعری مجموعے ‘‘در ودیوار سے پہلے’’ کا اجراء
علی گڑھ، 12 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں معروف شاعر جانی فوسٹر کے شعری مجموعہ ‘‘در و دیوار سے پہلے’’ کی رسم اجرا پروفیسر محمد گلریز، سابق وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پروفیسر محمد رضوان خان، ڈین فیکلٹی آف آرٹس، اے ایم یوکے ہاتھوں عمل میں آئی۔ تقریب رونمائی کی صدارت ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر محمد رضوان خاں نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر محمد گلریز نے شرکت کی۔ جبکہ پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری اور ڈاکٹر مشتاق صدف نے شعری مجموعے پر سیر حاصل گفتگو کی۔
پروفیسر محمد گلریز نے جانی فوسٹر کو اس اشاعت پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ‘‘میں جانی فوسٹر کو دشینت کمار جیسے شعرا کے زمرے میں شمار کرتا ہوں۔ ان کی شاعری ہمارے دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ سوشلسٹ شاعر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ ان کے یہاں آسان لب و لہجے میں گہری شاعری دیکھنے کو ملتی ہے’’۔ پروفیسر گلریز نے کہا کہ جانی فوسٹر وسیع تخلیقی کینوس کے ایک معتبر شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں متانت، سنجیدگی اور سادگی ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ نیز، انہوں نے ہندوستانی تہذیب اور اخلاقی قدروں کی پاسداری بڑی خوش اسلوبی سے کی ہے اور یہ ان کی بڑی شناخت ہے۔
پروفیسر محمد رضوان خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جانی فوسٹر کے یہاں موضوعات کی رنگارنگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے یہاں نئے شعری وجدان کی تشکیل بڑی خوبصورتی سے کی گئی ہے۔
پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے کہا کہ سماج کے بدلتے رویوں اور تیور پر ان کی شاعری طنز کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ جانی فوسٹر کی غزلیں ہمیں ایک نئی شعری دنیا سے متعارف کراتی ہیں۔ حسن و عشق کے پاکیزہ خیالات، حقائق میں تیکھاپن، جذبات میں شدت،زندگی کے اسرار و رموز کی عقدہ کشائی اور لہجے کی بے باکی سے ان کی غزلیہ شاعری روشن ہے۔واضح رہے کہ اس مجموعہ کا مقدمہ ڈاکٹر مشتاق صدف نے تحریر کیا ہے۔
صاحب کتاب جانی فوسٹر نے اس موقع پر موجود اے ایم یو کے اساتذہ،طلبہ و طالبات اور شہر علی گڑھ کی سرکردہ شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علیگ برادری نے جس طرح میری حوصلہ افزائی کی ہے اس کا میں زندگی بھر مقروض رہوں گا۔انہوں نے حاضرین کواپنے کلام سے بھی نوازا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ