
لکھنؤ، 12 ستمبر (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے واضح کیا ہے کہ ان کے بھائی آنند کمار کے کسی بھی بیٹے کو بی ایس پی میں کسی بھی چھوٹے یا بڑے عہدے پر رہ کر سیاست کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر آنند کمار اپنی بیٹی دیپیکا آنند کی مدد لے سکتے ہیں، جو اس وقت وکالت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔مایاوتی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں پارٹی کے بانی کانشی رام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی اپنے کسی رشتہ دار یا خاندان کے فرد کو پارٹی کے کاموں تک محدود رکھتے ہوئے رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی، وزیر یا کسی دوسرے سیاسی فائدے سے ہمیشہ دور رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانشی رام کی طرح وہ بھی خاندانی سیاست کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہیں گی۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور خاتون ہونے کی وجہ سے مجبوری میں اپنے چھوٹے بھائی آنند کمار کو اپنے ساتھ رکھنا پڑا۔ آنند کمار ان کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی میں طویل عرصے سے پارٹی کی اہم ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں، لیکن اب اگر اس کا فائدہ ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی ملنے لگے تو یہ پارٹی اور تحریک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے ان کا حتمی فیصلہ اور عہد ہے کہ آنند کمار کے خاص طور پر کسی بھی بیٹے کو بی ایس پی میں کسی بھی چھوٹے یا بڑے عہدے پر رہ کر سیاست کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر مستقبل میں آنند کمار کو مایاوتی کی مدد کے لیے کسی اور رکن کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ اپنی اکلوتی بیٹی کُمارِی دیپیکا آنند سے مدد لے سکتے ہیں۔ دیپیکا اس وقت وکالت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کی ایمانداری، وفاداری اور کام کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے پارٹی میں انہیں ضرورت کے مطابق ذمہ داری بھی سونپی جا سکتی ہے۔
مایاوتی نے واضح کیا کہ آنند کمار اپنے دونوں بیٹوں اور مستقبل میں ان کے بچوں میں سے کسی کو بھی یہ ذمہ داری نہیں سونپیں گے۔ اگر ان کی بیٹی اس ذمہ داری کے لیے تیار نہ ہوں تو پارٹی کی باہمی رضامندی سے دلت طبقے کے کسی دوسرے مشنری کارکن کو یہ ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اسے وقت کی ضرورت اور پارٹی کے مفاد میں قرار دیا۔مایاوتی نے مزید کہا کہ پارٹی تنظیم میں اور مستقبل میں حکومت بننے کی صورت میں بھی کسی ایک شخص کو موقع دیا جائے گا، لیکن اس کی آڑ میں اس کے خاندان کے دیگر افراد کو کسی قسم کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس کا مقصد بی ایس پی کو خاندانی سیاست سے آزاد رکھنا اور تمام سماجی طبقات کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ’’سماجی تبدیلی اور معاشی آزادی‘‘ کی تحریک میں شامل کرنا ہے، جو امبیڈکر وادی سیاست کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے پارٹی کارکنوں کو مخالف سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور ذات پات پر مبنی میڈیا و سوشل میڈیا کے مبینہ ’’زہریلے، سازشی اور اسپانسرڈ پروپیگنڈے‘‘ سے محتاط رہنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کا مقصد ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنا کر بی ایس پی کو اتر پردیش میں حکومت بنانے سے روکنا ہے۔مایاوتی نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر پارٹی سے نکالے گئے افراد کی واپسی سے متعلق چلنے والی خبریں غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو کر بی ایس پی سے نکالے گئے افراد کو واپس نہیں لیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کے تحت پارٹی تنظیم میں جین زی کو تقریباً 50 فیصد تک نمائندگی دینے کا عمل طویل عرصے سے جاری ہے۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب اسمبلی کے آئندہ عام انتخابات میں بھی تمام سماجی طبقات کے محنتی اور باصلاحیت نوجوانوں کو امیدوار بنانے کو ترجیح دینے کی ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے۔مایاوتی نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ بی ایس پی امیدواروں کے انتخاب کے دوران تمام سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے اہل افراد کو ترجیح دی جائے اور نوجوانوں، خواہ خواتین ہوں یا مرد، کو بھی مناسب نمائندگی دی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan