نیپال میں بھوٹے کوسی سیلاب کی تباہی کا درد، 16 دن سے لاپتہ انجینئر کے خاندان نے کُش کی علامتی لاشیں بنا کر آخری رسومات ادا کیں
کاٹھمنڈو، 11 ستمبر (ہِ.س.) — نیپال میں بھوٹے کوسی سیلاب کی تباہی نے ایک خاندان کو ایسا گہرا زخم دیا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ 16 دن تک تلاش کے باوجود جب انجینئر میاں بیوی اور ان کے چار سالہ جڑواں بچوں کا کوئی سراغ نہیں ملا تو خاندان نے
نیپال میں بھوٹے کوسی سیلاب کی تباہی کا درد، 16 دن سے لاپتہ انجینئر کے خاندان نے کُش کی علامتی لاشیں بنا کر آخری رسومات ادا کیں


کاٹھمنڈو، 11 ستمبر (ہِ.س.) —

نیپال میں بھوٹے کوسی سیلاب کی تباہی نے ایک خاندان کو ایسا گہرا زخم دیا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ 16 دن تک تلاش کے باوجود جب انجینئر میاں بیوی اور ان کے چار سالہ جڑواں بچوں کا کوئی سراغ نہیں ملا تو خاندان نے چاروں کو مردہ تصور کرتے ہوئے ہندو روایات کے مطابق کُش کی علامتی لاشیں بنا کر ان کی آخری رسومات ادا کر دیں۔

تریشولی–3 ’بی‘ پن بجلی منصوبے میں انجینئر کے طور پر کام کرنے والے باگ لُنگ میونسپلٹی کے رہائشی 33 سالہ راجیش شرما پوڈیل اور ان کی 31 سالہ اہلیہ پرمیلا پاٹھک سیلاب کے بعد سے لاپتہ تھے۔ ان کے ساتھ ان کے چار سالہ جڑواں بچے، بیٹا آدتیہ اور بیٹی ادیتی بھی لاپتہ ہیں۔ خاندان نے جمعرات کو چاروں کی کُش کی علامتی لاشیں بنا کر آخری رسومات ادا کیں۔

راجیش اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ 16 دن تک اپنے بیٹے، بہو اور دونوں پوتے پوتی کے واپس آنے کی امید لگائے بیٹھے خاندان کو آخرکار انتہائی غمگین دل کے ساتھ یہ قدم اٹھانا پڑا۔

راجیش اور پرمیلا دونوں سول انجینئر تھے اور تریشولی–3 ’بی‘ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں کام کر رہے تھے۔ دونوں نے کاٹھمنڈو انجینئرنگ کالج سے تعلیم مکمل کی تھی اور سال 2020 میں شادی کی تھی۔ شادی کے تقریباً دو سال بعد اکتوبر 2022 میں ان کے یہاں جڑواں بچوں آدتیہ اور ادیتی کی پیدائش ہوئی تھی۔

سیلاب کے بعد پورا خاندان لاپتہ ہو گیا، لیکن 16 دن تک مسلسل تلاش کے باوجود چاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ آخرکار امیدیں ٹوٹنے کے بعد خاندان نے ہندو رسومات کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کر دیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande