
نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے جمعہ کو برکس کے رکن ممالک سے اپنی ادائیگی کے نظام کو باہم مربوط کرنے، مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں ڈیجیٹل تجارت کو مزید آسان بنانے کی اپیل کی۔
وزیر تجارت نے نئی دہلی میں ’برکس بزنس فورم 2026‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کی سمت میں اہم اقدامات کیے ہیں۔ بھارت کایونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) سالانہ 250 ارب سے زائد لین دین کا ہندسہ پار کر چکا ہے، جو دنیا بھر میں ہونے والے لین دین کی تعداد کا نصف سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج یو پی آئی کو 11 ممالک میں قبول کیا جاتا ہے اور میں برکس کے رکن ممالک اور شراکت دار ممالک سے اپیل کروں گا کہ وہ اہماری اس دائیگی کے نظام کو باہم مربوط کریں، ایک دوسرے کی مقامی کرنسیوں میں تجارت کریں، ڈیجیٹل تجارت کو عالمی سطح پر فروغ دیں اور مستقبل کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے مل کر کام کریں۔
گوئل نے کہا کہ شراکت دار ممالک کے درمیان تجارت کو مزید گہرا اور مضبوط ہونا چاہیے اور سپلائی چین میں تنوع پیدا کیا جانا چاہیے، تاکہ کسی بھی وقت تجارتی رکن ممالک میں سے کسی کی اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود متاثر نہ ہو۔ گوئل نے برکس ممالک پر زور دیا کہ ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنے ادائیگی کے نظام کو باہم مربوط کرنا چاہیے اور مقامی کرنسیوں میں دو طرفہ تجارت کو فروغ دینا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط اور محفوظ سپلائی چین کے لیے اہم معدنیات اور خام مال کا بلا رکاوٹ تبادلہ ضروری ہے۔ وزیر نے پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور خواتین کاروباریوں کو بین الاقوامی تجارتی میلوں اور نمائشوں میں زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی خصوصی زور دیا۔
یہ ’بزنس فورم‘ دو روزہ برکس سربراہ اجلاس سے الگ منعقد کیا گیا ہے۔ بھارت ہفتہ سے اس سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس-یوکرین جنگ، امریکہ-ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ اور امریکی انتظامیہ کی ٹیرف پالیسیوں کے نتیجے میں عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ برکس ایک بااثر گروپ کے طور پر ابھرا ہے۔ اس میں دنیا کی 11 بڑی ابھرتی ہوئی معیشتیں شامل ہیں، جو عالمی آبادی کا تقریباً 49.5 فیصد، عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی ) کا تقریباً 40 فیصد اور عالمی تجارت کا تقریباً 26 فیصد نمائندگی کرتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد