خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، ہندوستانی معیشت بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ
نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ کروڈ آج تقریباً 110 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 105 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گ
خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، ہندوستانی معیشت بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ


نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ کروڈ آج تقریباً 110 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 105 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ خام تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے ہندوستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے مہنگائی میں اضافہ اور روپے کی قدر میں مزید کمی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے براہ راست فوجی تصادم اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار ٹینکروں پر حملوں کے بعد عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت گزشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ملک کے شیئر بازار، روپے کی قدر اور گھریلو معیشت پر پڑنے کا امکان ہے۔ٹی این وی فنانشل سروسز کے سی ای او تارکیشور ناتھ ویشنو کے مطابق مہنگے خام تیل کا سب سے پہلا اور بڑا اثر ہندوستانی کرنسی پر پڑا ہے۔ تیل کی درآمد کا بل ادا کرنے کے لیے ہندوستانی کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ریکارڈ کمزوری کے ساتھ 95.80 کی سطح تک پہنچ گیا۔اگرچہ ریزرو بینک آف انڈیا اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے مارکیٹ میں ڈالر فراہم کرکے روپے کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اگر خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو روپے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ ڈالر جاری کرنے کی صورت میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ویشنو کے مطابق مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سے پیدا ہونے والے تیل بحران کا اثر ہندوستانی شیئر بازار پر بھی واضح ہے۔ خام مال اور توانائی کی لاگت بڑھنے اور منافع کے مارجن میں کمی کے خدشے کے باعث کئی اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ جمعرات کو بی ایس ای کا سینسیکس دورانِ کاروبار 740 سے زائد پوائنٹس تک گر گیا، تاہم بعد میں خریداری بڑھنے سے بازار کو کچھ سہارا ملا۔ دوسری جانب خام تیل مہنگا ہونے سے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے بعض حصص کو فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔کھورانہ سیکیورٹیز اینڈ فنانشل سروسز کے سی ای او روی چندر کھورانہ کے مطابق خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے ہندوستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل، سی این جی، پی این جی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح ایئر ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) مہنگا ہونے سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ایوی ایشن سیکٹر کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر پینٹ اور پلاسٹک صنعت پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ ان شعبوں میں خام تیل اہم خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے کمپنیوں کے منافع میں کمی آسکتی ہے اور وہ اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق ایک طرف خام تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہے، تو دوسری طرف ہندوستان میں خام تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں، جیسے او این جی سی اور آئل انڈیا لمیٹڈ کے شیئرز کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل جیسے روایتی ایندھن مہنگے ہونے کی صورت میں ٹاٹا پاور اور اڈانی گرین جیسی قابل تجدید توانائی کمپنیوں کی جانب سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھ سکتی ہے۔جانکاروں کا کہنا ہے کہ عالمی بازار میں خام تیل کی بلند قیمتیں طویل عرصے تک برقرار رہنے سے ہندوستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے اور مالیاتی خسارے کے ہدف پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شیئر بازار سے غیر ملکی سرمایہ کی مزید نکاسی کا خدشہ ہے۔ معیشت پر دباؤ بڑھنے کی صورت میں حکومت کو سبسڈی، شرح سود اور روپے-ڈالر شرح تبادلہ سے متعلق اہم فیصلے کرنا پڑسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمت طویل عرصے تک 100 ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ برقرار رہتی ہے تو اس کا سب سے نمایاں اثر مہنگائی پر پڑے گا۔ مال برداری مہنگی ہونے سے سبزیاں، پھل، ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس سے عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھے گا۔ ساتھ ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے سے ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو بھی کچھ عرصے کے لیے متاثر ہوسکتی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande