برینٹ خام تیل 110 ڈالر کے قریب پہنچا، ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 105 ڈالر کے پاس
نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل آج 110 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچتا نظر آ رہا ہے۔ وہیں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی آج 105 ڈالر فی بیرل کی
کروڈ


نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل آج 110 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچتا نظر آ رہا ہے۔ وہیں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی آج 105 ڈالر فی بیرل کی سطح کے کافی قریب پہنچ گیا ہے۔

بین الاقوامی بازار میں برینٹ خام تیل آج 15 اپریل کے بعد پہلی مرتبہ 108 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 108.77 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی آج 105 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ کر 104.46 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر کاروبار کرتا نظر آیا۔

برینٹ خام تیل نے آج بغیر کسی تبدیلی کے 107.63 ڈالر فی بیرل کی سطح سے کاروبار کا آغاز کیا۔ ٹریڈنگ شروع ہونے کے بعد یہ کچھ دیر کے لیے پھسل کر 107.16 ڈالر فی بیرل کی سطح تک بھی آ گیا، لیکن تھوڑی دیر بعد اس کی قیمت میں تیزی آ گئی۔ قیمت میں آنے والی اس تیزی کے باعث برینٹ خام تیل دیکھتے ہی دیکھتے 108 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کرکے 108.77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ تاہم اس کے بعد اس کی قیمت میں کمی آئی، جس کی وجہ سے یہ پھسل کر جمعرات کی اختتامی سطح سے بھی نیچے پہنچ گیا۔ بھارتی وقت کے مطابق دوپہر 11:30بجے برینٹ خام تیل 0.97 ڈالر فی بیرل یعنی 0.90 فیصد کی کمی کے ساتھ 106.66 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔

اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی خام تیل نے آج 1.43 ڈالر فی بیرل کے اضافے کے ساتھ 103.91 ڈالر فی بیرل کی سطح سے کاروبار کا آغاز کیا۔ اوپننگ کے فوراً بعد یہ گر کر کچھ دیر کے لیے 101.57 ڈالر فی بیرل کی سطح تک آ گیا، لیکن اس کے بعد اس کی قیمت میں تیزی آ گئی۔ کچھ ہی دیر میں یہ اچھل کر 104.46 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم بعد میں اس کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی وقت کے مطابق دوپہر11:30 بجے ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 0.76 ڈالر فی بیرل یعنی 0.75 فیصد کی کمی کے ساتھ 101.72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔

یادرہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مسلسل حملے کرنے اور سخت اقدامات کی دھمکیاں دینے کے باعث مغربی ایشیا کے حالات مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے خلیج فارس اور عمان کے قریب ایران کے 5 آئل ٹینکروں پر حملہ کرنے اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے اردن میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیے جانے کے باعث مغربی ایشیا میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی بھی وارننگ دی ہے، جس کی وجہ سے اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی ہے۔

اس کشیدگی کے درمیان یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی مغربی بندرگاہوں پر ناکہ بندی اور حملوں کا دائرہ بڑھا دیا ہے، جس سے باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری تجارت کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک سے ہونے والی خام تیل کی سپلائی تقریباً ٹھپ ہو گئی ہے۔

خلیج فارس اور بحیرہ احمر دونوں راستوں سے مال بردار جہازوں کی آمدورفت کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ اس ہفتے کے پہلے پانچ دنوں میں ہی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد کی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری دن، 5 ستمبر کو برینٹ خام تیل 96.10 ڈالر فی بیرل کی سطح پر تھا۔ اتوار کی تعطیل کے بعد 7 ستمبر یعنی پیر سے آج تک کی ٹریڈنگ میں اس کی قیمت میں 12.67 ڈالر فی بیرل یعنی 13.18 فیصد کی تیزی آ چکی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 92.09 ڈالر فی بیرل کی سطح سے 12.37 ڈالر فی بیرل یعنی 13.43 فیصد مہنگا ہو گیا ہے۔

خام تیل کی قیمت میں مسلسل ہونے والے اضافے سے بھارت جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کی معیشت پر بھی گہرا اور منفی اثر پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ خام تیل کی قیمت میں آنے والی اس تیزی سے مہنگائی بڑھنے کا خطرہ تو ہے ہی، ساتھ ہی جی ڈی پی کی شرح نمو بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے باعث بھارتی کرنسی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جبکہ شیئر بازار بھی بڑی گراوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande