دہلی میں ایس ڈی آر ایف کی تشکیل سے قدرتی آفت کی صورت میں راحت و بچاو کے کاموں کو رفتار ملے گی: ریکھا گپتا
نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں دہلی حکومت نے قدرتی اور انسانی آفات سے موثر طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے کی سمت میں بڑا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی حکومت اب اپنی اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) تشکیل
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا این ڈی آر ایف کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ میں۔


نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں دہلی حکومت نے قدرتی اور انسانی آفات سے موثر طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے کی سمت میں بڑا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی حکومت اب اپنی اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) تشکیل دے گی۔ اس سے آفت کی صورت میں تربیت یافتہ اور ماہر فورس کو جائے حادثہ پر فوری پہنچانے، راحت و بچاو کے کاموں کو موثر انداز میں انجام دینے نیز جانی و مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ایس ڈی آر ایف کی تشکیل کے ساتھ ہی دہلی حکومت فائر بریگیڈ کے ملازمین اور سول ڈیفنس رضاکاروں کو بھی خصوصی تربیت دلوائے گی تاکہ آفت کی صورت میں دستیاب مقامی انسانی وسائل ضروری مہارت اور بہتر تال میل کے ساتھ راحت و بچاو کے کاموں میں تعاون پیش کر سکیں۔

اس موضوع کو لے کر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں جمعرات کے روز دہلی سکریٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں این ڈی آر ایف کے افسران نے دہلی میں ایس ڈی آر ایف کے قیام سے متعلق مختلف پہلووں پر تفصیلی جانکاری دی۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ دہلی میں ایس ڈی آر ایف کے 1100 جوانوں کی بٹالین تشکیل دی جا سکتی ہے۔ یہ بٹالین ریاستی حکومت کے ماتحت کام کرے گی اور اس کے حکم پر آفت کے وقت جائے حادثہ پر تیزی سے پہنچ کر موثر راحت و بچاو کا کام انجام دے سکے گی۔

این ڈی آر ایف کے افسران نے بتایا کہ مجوزہ ایس ڈی آر ایف کے جوانوں کو ضروری تربیت این ڈی آر ایف فراہم کرے گی۔ دہلی کے جغرافیائی حالات اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی آلات وغیرہ کی فراہمی میں این ڈی آر ایف تعاون کرے گی۔ ایس ڈی آر ایف کے قیام کے بعد دہلی حکومت اپنے فائر ڈپارٹمنٹ کے عملے اور سول ڈیفنس رضاکاروں کو بھی تربیت دلائے گی تاکہ آفت کے وقت مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کے ساتھ راحت و بچاو کی کارروائیاں کی جا سکیں۔

حکومت کا ماننا ہے کہ آفت کے وقت راحت اور بچاو میں سب سے اہم عنصر فوری ردعمل (کوئیک رسپانس) ہے۔ ایس ڈی آر ایف کی تشکیل، فائر ڈپارٹمنٹ اور سول ڈیفنس رضاکاروں کی تربیت سے دارالحکومت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جا سکے گا۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق آلات کی فہرست اور ان کے ذخیرے کی تفصیلات متعلقہ محکموں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ کسی حادثے یا آفت کے وقت انہیں فوری طور پر دستیاب کرایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی میں اپنی ایس ڈی آر ایف کا قیام طویل عرصے سے منتظر تھا۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں ایس ڈی آر ایف تشکیل پا چکی ہے۔ دارالحکومت دہلی جیسے گنجان آباد میٹروپولیٹن میں ایس ڈی آر ایف کا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے دور میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ اہم انتظام عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ دہلی حکومت اب اس سمت میں آگے بڑھے گی تاکہ آفت کی صورت میں بیرونی امداد پر انحصار کم ہو اور مقامی سطح پر فوری ردعمل کی صلاحیت مضبوط ہو۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی میں مادی بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے اور آبادی میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں قدرتی یا انسانی آفت کے دوران سنگین نقصان کے خدشے کے پیشِ نظر پہلے سے مضبوط تیاری اور فوری ردعمل کا طریقہ کار ناگزیر ہے۔ اس کا مقصد آفت آنے کے بعد محض ردعمل ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے حالات سے نپٹنے کے لیے دہلی کو پہلے سے تیار اور باصلاحیت بنانا ہے۔

میٹنگ میں این ڈی آر ایف کو دہلی میں اپنی بٹالین تعینات کرنے کے لیے اراضی فراہم کرنے کے معاملے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ این ڈی آر ایف کے افسران نے بتایا کہ دہلی کے بیرونی علاقوں میں ان کے پاس اراضی دستیاب ہے، جہاں جوان مستعد رہتے ہیں۔ لیکن دہلی کے ملک کا دارالحکومت ہونے اور یہاں مرکزی حکومت کے اہم اداروں کے سرگرم عمل ہونے کے سبب وسطی دہلی، شمالی دہلی اور جنوبی دہلی میں بھی این ڈی آر ایف کی موجودگی ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے میٹنگ کے دوران متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ اس معاملے پر غور و خوض کیا۔ افسران نے بتایا کہ دہلی حکومت کے پاس ایسی اراضی موجود ہے، جسے اس مقصد کے لیے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو اس ضمن میں فوری کارروائی کی ہدایات دیں۔

اس میٹنگ میں دہلی حکومت کے چیف سکریٹری راجیو ورما، این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پیوش آنند، انسپکٹر جنرل (آئی جی) نریندر بندیلا اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande