ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا ’غنڈہ‘ نہیں رہا: ٹرمپ
واشنگٹن ،10 ستمبر (ہ س )۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم نہیں ہو رہی ہے ۔دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف جہاں اسلحہ کے ذریعہ حملے جاری ہیں وہیں زبانی اور الفاظ کے ذریعہ بھی سخت حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اپنے ایک نئے بیان میں امریکی صدر ڈون
ٹرمپ


واشنگٹن ،10 ستمبر (ہ س )۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم نہیں ہو رہی ہے ۔دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف جہاں اسلحہ کے ذریعہ حملے جاری ہیں وہیں زبانی اور الفاظ کے ذریعہ بھی سخت حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اپنے ایک نئے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ نہیں رہا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملوں کے بعد ایران بکھر رہا ہے، وہ 51 سال سے مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ بنا ہوا تھا لیکن اب وہ غنڈہ نہیں رہا۔

ڈاووس میں خطاب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران کو تباہ نہ کیا ہوتا تو وہ 2 ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جون میں کیے گئے امریکی حملوں نے ستمبر میں غزہ میں امن معاہدے کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں علاقے میں اسرائیل کی 2 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔

انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ہتھیار ڈال دے، بصورتِ دیگر اسے مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی قبضہ ہے، میرے خیال میں ہمیں اسے آبنائے ٹرمپ کہنا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande