اگست میں یو پی آئی کے ذریعے 29.82 لاکھ کروڑ روپے کا لین دین ریکارڈ سطح پر پہنچا
نئی دہلی، یکم ستمبر (ہ س)۔ ملک میں یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے اگست میں 29.82 لاکھ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے۔ رواں سال مئی اور جولائی میں یو پی آئی کے ذریعے لین دین کی مالیت ریکارڈ 29.9 لاکھ کروڑ روپے رہی تھی۔ اگست میں یو پی آئی
اگست میں یو پی آئی کے ذریعے 29.82 لاکھ کروڑ روپے کا لین دین ریکارڈ سطح پر پہنچا


نئی دہلی، یکم ستمبر (ہ س)۔ ملک میں یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے اگست میں 29.82 لاکھ کروڑ روپے کے لین دین ہوئے۔ رواں سال مئی اور جولائی میں یو پی آئی کے ذریعے لین دین کی مالیت ریکارڈ 29.9 لاکھ کروڑ روپے رہی تھی۔ اگست میں یو پی آئی کے ذریعے لین دین کی تعداد بھی ریکارڈ 2,451 کروڑ تک پہنچ گئی، جو جولائی میں درج 2,366 کروڑ کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ رواں سال جون میں لین دین کی تعداد 2,272 کروڑ اور مئی میں 2,320 کروڑ رہی تھی۔

نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی جانب سے منگل کو جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں یو پی آئی لین دین کی مالیت 29.82 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال اسی ماہ کے 24.85 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اسی مدت میں یو پی آئی لین دین کی تعداد بھی سالانہ بنیاد پر 22 فیصد بڑھ کر 2,451 کروڑ ہوگئی، جبکہ گزشتہ سال اگست میں یہ تعداد 1,963 کروڑ تھی۔

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) اور انڈین بینکس ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کی مشترکہ پہل این پی سی آئی ہندوستان میں خوردہ ادائیگی اور سیٹلمنٹ نظام کے آپریشنز کے لیے ایک اعلیٰ ادارہ ہے۔ این پی سی آئی ہی یو پی آئی کا انتظام چلاتا ہے، جس کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کو یا خریداری کے دوران تاجروں کو حقیقی وقت میں ادائیگی کر سکتے ہیں۔

یو پی آئی اب 11 ممالک میں قابل قبول ہے اور ازبکستان اس میں شامل ہونے والا تازہ ترین ملک ہے۔ دیگر ممالک میں سنگاپور، متحدہ عرب امارات، فرانس، ماریشس، نیپال، بھوٹان، قطر، سری لنکا، کمبوڈیا اور یونان شامل ہیں، جہاں یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کی سہولت دستیاب ہے۔

ملک میں یو پی آئی کا آغاز 25 اگست 2016 کو ہوا تھا اور اس کے بعد سے اس نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی کے منظرنامے کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ یو پی آئی کے ذریعے لین دین کی مالیت مالی سال 2016-17 میں 0.07 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں تقریباً 314 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی۔ اس طرح ایک دہائی کے دوران اس میں 4 ہزار گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande