
نئی دہلی، یکم ستمبر (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر ونڈ فال ٹیکس میں اضافہ کیا ہے، جبکہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر ڈیوٹی میں معمولی تخفیفککی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق منگل سے ہوگیا ہے۔
وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر ونڈ فال ٹیکس بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی ہوا بازی کے ایندھن پر ڈیوٹی میں معمولی کمی کی گئی ہے۔ نظرثانی شدہ نئی شرحیں یکم ستمبر سے شروع ہونے والے اگلے پندرہ دن کے لیے نافذ ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، اسپیشل ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی (ایس اے ای ڈی ) کے ساتھ ڈیزل کی برآمدات پر روڈ اور انفراسٹرکچر سیس کو بڑھا کر 25 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جو پہلے 24 روپے فی لیٹرتھا۔ ہوا بازی کے ایندھن کی برآمدات پرایس اے ای ڈی کو کم کر کے 19 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جو پہلے 19.50 روپے تھا۔ اسی طرح، پیٹرول کی برآمدات پر ڈیوٹی کو کم کر کے 1.50 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جو پہلے صفر تھا۔
وزارت خزانہ نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ ڈیوٹی میں اضافہ یکم ستمبر سے لاگو ہو گیا ہے۔ ونڈ فال پرافٹس ٹیکس مرکزی حکومت کی طرف سے مخصوص کمپنیوں یا صنعتوں پر عائد کیا گیا ٹیکس ہے جو اپنی کاروباری حکمت عملیوں کے بجائے غیر متوقع بیرونی واقعات کی وجہ سے نمایاں منافع کماتی ہیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ گھریلو استعمال کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی پر لاگو موجودہ ڈیوٹی ریٹس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
اس سے قبل، مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، مرکزی حکومت نے 27 مارچ 2026 کو ڈیزل اور اے ٹی ایف کی برآمد پر یہ ڈیوٹی عائد کی تھی۔ اس کے بعد، یہ ڈیوٹی 16 مئی سے پیٹرول کی برآمد پر بھی لگائی گئی تھی۔ ہر پندرہ دن بعد نرخوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت نے مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان گھریلو بازار میں ایندھن کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے قیمت کے فرق سے برآمد کنندگان کو ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے اس طرح کا ونڈ فال منافع ٹیکس عائد کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد