
ممبئی، یکم ستمبر (ہ س)۔ سینئر سماجی کارکن انا ہزارے کی طبیعت اچانک بگڑنے کے بعد انہیں ممبئی کے بمبئی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم ان کی نگرانی کر رہی ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ فی الحال ان کی حالت مستحکم ہے۔ انا ہزارے کا علاج معروف فزیشن ڈاکٹر گوتم بھنسالی اور ان کی ٹیم کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ان کے مختلف طبی معائنے کیے جا رہے ہیں۔ جانچ رپورٹ آنے کے بعد مزید علاج کی سمت طے کی جائے گی۔
گزشتہ کچھ دنوں سے انا ہزارے کی طبیعت ناساز چل رہی تھی۔ انہیں شدید کھانسی، بخار، کمزوری اور جسم میں پانی کی کمی جیسی مشکلات کا سامنا تھا۔ صحت میں متوقع بہتری نہ آنے اور کمزوری بڑھنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر ممبئی لے جانے کا فیصلہ کیا۔ فی الحال ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے، تاہم کمزوری کے باعث انہیں آئی سی یو میں خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
سماجی کارکن انجلی دمانیا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے انا ہزارے کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع دی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انا ہزارے کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ ان کے مطابق، پانی کی کمی اور وائرل انفیکشن کے باعث ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔
انا ہزارے ملک کے معروف سماجی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ سال 2011 میں ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ تحریک کے بعد انہیں ملک بھر میں وسیع پیمانے پر شناخت ملی۔ مہاراشٹر کے رالے گن سدھی گاؤں کی ترقی اور اسے ایک مثالی گاؤں کے طور پر فروغ دینے کے لیے کیے گئے ان کے کاموں کو بھی بڑے پیمانے پر سراہا گیا تھا۔ حال ہی میں ’نیٹ‘ پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاج کر رہے طلبہ کی حمایت بھی انا ہزارے نے کی تھی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر طلبہ کے مسائل کے حل کا مطالبہ کیا تھا۔ انا ہزارے کی طبیعت بگڑنے کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے حامیوں اور خیر خواہوں میں تشویش کا ماحول ہے۔ ملک بھر سے لوگ ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد