آبنائے ہرمز میں بندشوں کے باوجود بھارت میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہوئی: ہردیپ سنگھ پوری
نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے جمعہ کو کہا کہ اس سال آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے باعث سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، لیکن بھارت نے متنوع ذرائع، ریفائننگ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور گھریلو پیداوار کے ذ
آبنائے ہرمز میں بندشوں کے باوجود بھارت میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہوئی: ہردیپ سنگھ پوری


نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔

مرکزی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے جمعہ کو کہا کہ اس سال آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے باعث سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، لیکن بھارت نے متنوع ذرائع، ریفائننگ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور گھریلو پیداوار کے ذریعے صارفین کو ایندھن کی کسی بھی قلت کا سامنا نہیں ہونے دیا۔

ہردیپ سنگھ پوری نے قومی دارالحکومت نئی دہلی میں سی آئی آئی بین الاقوامی توانائی کانفرنس اور نمائش سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے توانائی کے تحفظ کو صرف ہائیڈرو کاربن کی دستیابی تک محدود رکھنے کے بجائے درآمدی ذرائع میں تنوع، اسٹریٹجک شراکت داری، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور متبادل ایندھن جیسے جامع نقطہ نظر کو اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی۔ پوری نے کہا، ”ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے بھارت اپنے خام تیل کی تقریباً نصف درآمد اسی راستے سے منسلک ممالک سے کرتا تھا، جبکہ 90 فیصد ایل پی جی اور 60 فیصد قدرتی گیس کی درآمد بھی اسی راستے سے ہوتی تھی۔“

سی آئی آئی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود بھارت نے درآمدی ذرائع میں تنوع پیدا کرکے ملک کے کسی بھی حصے میں ایندھن کی کمی نہیں ہونے دی۔ انہوں نے کہا، ”میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ملک میں ایک بھی پٹرول پمپ پر ایندھن ختم نہیں ہوا۔“

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ بھارت نے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک کی تعداد 27 سے بڑھا کر 41 کر دی ہے، جبکہ ملک میں پٹرول پمپوں کی تعداد 2014 میں تقریباً 52 ہزار سے بڑھ کر اب 1.07 لاکھ ہو گئی ہے۔ اسی طرح شہری گیس تقسیم کا نیٹ ورک بھی 55 علاقوں سے بڑھ کر 309 علاقوں تک پھیل چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سے درآمد میں آنے والی کمی کی تلافی کے لیے ملک میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار بڑھائی گئی۔ پوری نے بتایا کہ آج امریکہ بھارت کے لیے ایل پی جی کا سب سے بڑا سپلائر بن چکا ہے، جو ملک کی مجموعی ایل پی جی درآمدات کا تقریباً 67 فیصد فراہم کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande