
نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔ سیوریج نیٹ ورک، پانی کی فراہمی کی اسکیموں، بجلی کی ترسیل و تقسیم اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنی ٹیکنوکرافٹ وینچرز کا 251.88 کروڑ روپے کاآئی پی او سبسکرپشن کے لئے لانچ کر دیا ہے۔ اس میں 11 اگست تک بولی لگائی جا سکتی ہے ۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 12 اگست کوشیئروں کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ 13 اگست کو مختص کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاونٹ میں کریڈٹ کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 14 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای میں درج ہونے کی توقع ہے۔لانچنگ کے بعد سرمایہ کاروں نے اس آئی پی او میں بھرپور دلچسپی دکھائی، جس کے باعث دوپہر ڈھائی بجے تک یہ آئی پی او کو 1.82گنا سبسکرائب ہو چکا تھا۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لئے 200 روپے سے لے کر212 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 70 شیئر کا ہے ۔ اس آئی پی او میں خرد سرمایہ کار کم از کم ایک لاٹ یعنی 70 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے 14 ہزار 840 روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اسی طرح وہ زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس یعنی 910 حصص کے لیے ایک لاکھ 92 ہزار 920 روپے تک سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے ایک کروڑ 18 لاکھ 81 ہزار حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 95 لاکھ 5 ہزار نئے حصص، جن کی مالیت تقریباً 202 کروڑ روپے ہے، جاری کیے جائیں گے، جبکہ تقریباً 50 کروڑ روپے مالیت کے 23 لاکھ 76 ہزار حصص آفر فار سیل ونڈو کے ذریعہ فروخت کئے جا رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں پچاس فیصد حصہ اہل ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (کیو آئی بی)مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 35 فیصد حصہ خوردہ سرمایہ کاروں اور پندرہ فیصد حصہ دیگر غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی )کے لیے مخصوص رکھا گیا ہے۔ اس ایشو کےکے لیے کھمباٹا سکیورٹیز لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے جبکہ بگ شیئر سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔
کمپنی کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو حصص بازار کے نگراں ادارے سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس(ڈی آر پی ایچ)کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اس کی مالی پوزیشن مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کو 19.05 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.20 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 43.32 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
اسی عرصے میں کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں کل آمدنی 227.30 کروڑ روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 281 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 347 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔اسی مدت میں کمپنی کے قرض میں بھی اضافہ ہوا۔ 2023-24 کے اختتام پر قرض 80.11 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال میں 87.43 کروڑ روپے اور 2025-26 میں معمولی اضافے کے ساتھ 89.76 کروڑ روپے ہو گیا۔
کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال 2023-24 میں یہ 91.78 کروڑ روپے تھی، جو 2024-25 میں 119.98 کروڑ روپے اور 2025-26 میں بڑھ کر 163.38 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس مدت میں کمپنی کو اس محاذ پر بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں یہ 84.21 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 112.42 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 133.16 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے 2023-24 میں 35.03 کروڑ روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 49.63 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 72.18 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد