
نئی دہلی، 07 اگست (ہ س)۔ عالمی سرمایہ کاری فرم کے کے آر کی ملکیت والی کمپنی لیپ انڈیا لمیٹڈ کا 2,480 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 11 اگست تک بولیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد حصص کی الاٹمنٹ 12 اگست کو کیا جائے گا، جبکہ الاٹ کیے گئے حصص 13 اگست کو ڈیمٹ اکاونٹ میں جمع کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 14 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای پر درج کیے جا سکتے ہیں۔ لانچ کے بعد، دوپہر 2 بجے تک، اس آئی پی او کو صرف 6 فیصد سبسکرائب کیا گیا تھا۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے پرائس بینڈ 151روپے سے لے کر 159 روپے فی شیئر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 94 شیئرز ہے۔ خوردہ سرمایہ کار اس آئی پی او میں کم از کم ایک لاٹ (94 حصص) کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,946 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح، خوردہ سرمایہ کار 1,94,298 روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس (1,222 حصص) کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت ایک روپے کی فیص ویلیو والے کل 15,59,74,841 کروڑ حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے، تقریباً 480 کروڑ روپے مالیت کے 3,01,88,679 نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 2,000 کروڑ روپے کے 12,57,86,162 حصص آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں ایشو پرائس کا 49.97 فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی ) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ، 34.98 فیصد خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے اور 15 فیصد غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی ) کے لیے مختص ہے۔ اس کے علاوہ 0.05 فیصد کمپنی کے ملازمین کے لیے مخصوص ہے۔ جے ایم فائنانشیل لمیٹڈ کو اس ایشو کے لیے بک رننگ لیڈ مینیجر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایم یو جی ایف ان ٹائم انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈکو رجسٹرار کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
لیپ انڈیا لمیٹڈ کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹر سیبی کے پاس دائر کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مضبوط رہی ہے ۔ مالی سال 24-2023 میں، کمپنی کا خالص منافع 37.17 کروڑروپے تھا، جو اگلے مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 37.56 کروڑ ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں، کمپنی کا خالص منافع 62.34 کروڑ تک پہنچ گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیوں میں بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں، اس نے 371.94 کروڑ کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 485.03 کروڑ ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 26-2025 میں، کمپنی نے 747.36 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی تھی۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرضوں کے بوجھ میں بھی بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر، کمپنی پر 513.07 کروڑ روپے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 801.66 کروڑ ہو گیا۔ پچھلے مالی سال 26-2025 میں، اس مالی سال کے دوران کمپنی کے قرض کا بوجھ بڑھ کر 1,017.73 کروڑ ہو گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس 521.84 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 606.09 کروڑ روپے ہو گئے۔ پچھلے مالی سال 26-2025 میں، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس 678.78 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں یہ 714.18 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 917.35 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 1,006.33 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
اسی طرح،ای بی آئی ٹی ڈی اے 24-2023 میں 209.92 کروڑ روپے تھی، جو 25-2024 میں بڑھ کر 273.80 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال، 26-2025 میں، کمپنی کاای بی آئی ٹی ڈی اے 378.83 کروڑ روپے تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد