شیخ حسینہ کی تقریر کی براہِ راست نشریات پر بھارت سے ناراض ہوا بنگلہ دیش
ڈھاکہ ، 6 اگست (ہ س): بنگلہ دیش کی معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں میڈیا سے براہِ راست گفتگو کی اجازت دینے پر بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے بھارت کے سے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بنگلہ دیش کے عوام کے جذبات مجر
شیخ حسینہ کی تقریر کی براہِ راست نشریات پر بھارت سے ناراض ہوا بنگلہ دیش


ڈھاکہ ، 6 اگست (ہ س): بنگلہ دیش کی معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں میڈیا سے براہِ راست گفتگو کی اجازت دینے پر بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے بھارت کے سے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بنگلہ دیش کے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈھاکہ نے اس معاملے پر اپنی تشویش پہلے ہی نئی دہلی کے سامنے رکھ دی تھی۔ وزارت نے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کا پروگرام دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کی کوششوں کو کمزور کر سکتا ہے۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا، بنگلہ دیش اس بات پر شدید ناراض ہے کہ مفرور اور اجتماعی قتل کی ذمہ دار قرار دی گئی شیخ حسینہ کو بدھ کی شام نئی دہلی میں میڈیا سے براہِ راست گفتگو کی اجازت دی گئی۔ بیان میں الزام لگایا گیا کہ شیخ حسینہ اور ان کے ساتھیوں نے اس پلیٹ فارم کو بنگلہ دیش کے خلاف استعمال کیا۔

وزارت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے پہلے ہی تشویش ظاہر کیے جانے اور ممکنہ سفارتی نتائج سے آگاہ کرنے کے باوجود اس پروگرام کو منعقد ہونے دیا گیا۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق جولائی انقلاب کی دوسری برسی کے موقع پر ہونے والی یہ میڈیا گفتگو بنگلہ دیش کی خودمختاری اور جولائی 2024 کی عوامی تحریک میں جان گنوانے والوں کی توہین کے مترادف ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ شیخ حسینہ نے جولائی اور اگست 2024 کے تشدد سے متعلق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کیا۔ وزارت کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام جولائی انقلاب کے نظریات سے وابستہ ہیں۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزارت نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ تعمیری، باہمی مفاد پر مبنی اور مستقبل پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ یہ تعلقات خودمختار برابری، باہمی احترام، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور قومی وقار کے اصولوں پر استوار ہونے چاہییں۔ تاہم، وزارت نے کہا کہ 2013 کے بھارت-بنگلہ دیش کے درمیان ملزمان کی حوالگی سے متعلق معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کی واپسی کے لیے بنگلہ دیش کی بار بار کی گئی درخواستوں کا اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد سے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ طلبہ کی قیادت میں ہونے والے بڑے پیمانے کے احتجاج کے بعد شیخ حسینہ بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت آ گئی تھیں اور تب سے یہیں مقیم ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت دوطرفہ حوالگیِ ملزمان کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے مسلسل ان کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ وہ اپنے خلاف جاری قانونی کارروائی کا سامنا کر سکیں۔ ڈھاکہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر شیخ حسینہ کے عوامی بیانات پر بھارت کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande