اقلیتی ہاسٹل پر غیر قانونی قبضے کے خلاف جے ڈی یو طلبہ کا احتجاج، تحقیقات کا مطالبہ
اقلیتی ہاسٹل پر غیر قانونی قبضے کے خلاف جے ڈی یو طلبہ کا احتجاج، تحقیقات کا مطالبہبھاگلپور، 6 اگست (ہ س)۔ تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی (ٹی ایم بی یو) کے احاطے میں واقع اقلیتی ہاسٹل پر مبینہ غیر قانونی قبضے کے خلاف جے ڈی یو کی طلبہ ونگ نے احتجا
اقلیتی ہاسٹل پر غیر قانونی قبضے کے خلاف جے ڈی یو   طلبہ کا احتجاج، تحقیقات کا مطالبہ


اقلیتی ہاسٹل پر غیر قانونی قبضے کے خلاف جے ڈی یو طلبہ کا احتجاج، تحقیقات کا مطالبہبھاگلپور، 6 اگست (ہ س)۔ تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی (ٹی ایم بی یو) کے احاطے میں واقع اقلیتی ہاسٹل پر مبینہ غیر قانونی قبضے کے خلاف جے ڈی یو کی طلبہ ونگ نے احتجاج شروع کیا ہے۔ جمعرات کے روز یونیورسٹی احاطے میں جے ڈی یو طلبہ ونگ کے زیر اہتمام دن بھر کا احتجاج کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کی قیادت جے ڈی یو طلبہ یونیورسٹی کے صدر محمد احسان عرف ڈیوڈ نے کی۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضے کئے گئے ہیں۔ اس غفلت کی وجہ سے دور دراز سے آنے والے واقعی ضرورت مند اور مستحق طلبہ کو رہائش کی سہولت میسر نہیں ہے۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہاسٹل طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے بنایا گیا تھا لیکن فی الحال قوانین کو صریحاً نظر انداز کیا جارہا ہے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے، ناجائز قبضے فوری طور پر ہٹائے جائیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔طلبہ جے ڈی یو نے سختی سے انتباہ کیا کہ اگر جلد مناسب اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو تنظیم شدید اور مرحلہ وار تحریک چلانے پر مجبور ہوگی، جس کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ پوری طرح سے ذمہ دار ہوگی۔ طلبہ رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کسی خاص فرد کے خلاف نہیں بلکہ طلبہ کے جمہوری حقوق اور نظام کی بہتری کے لیے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس سنگین معاملے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande