
ممبئی، 6 اگست (ہ س)۔ شیوسینا پارٹی اور اس کے انتخابی نشان سے متعلق سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران شیوسینا (شندے گروپ) کے رکن پارلیمنٹ نریش مہسکے نے شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راؤت عدالت کی کارروائی پر اس انداز میں بیانات دے رہے ہیں جیسے جج نے فیصلہ پہلے ہی انہیں بتا دیا ہو۔ طنزیہ انداز میں انہوں نے کہا کہ پہلے اپنی پارٹی سنبھالیں، پھر پتنگ اڑانے کی بات کریں۔نریش مہسکے نے کہا کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی شیوسینا پارٹی اور اس کے انتخابی نشان کو نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والے گروپ کے حق میں تسلیم کر چکا ہے، اس لیے سنجے راؤت کو پہلے الیکشن کمیشن کے فیصلے کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اقتدار کے حصول کے لیے ادھو ٹھاکرے گروپ نے ہندو ہردے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات سے سمجھوتہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عدالت کا فیصلہ اپنے حق میں آئے تو اس کی تعریف کرنا اور خلاف آئے تو اس پر تنقید کرنا مناسب رویہ نہیں ہے۔مہسکے نے سنجے راؤت کو مشورہ دیا کہ وہ دوسری جماعتوں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو متحد رکھنے اور تنظیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں۔ ان کے مطابق اس وقت انہیں اپنی جماعت کو منظم رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے، نہ کہ دوسروں پر سیاسی تبصرے کرنے کی۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے