
تہران/واشنگٹن/صنعاء /مسقط، 06 اگست (ہ س)۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، وہ آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا۔ ایران کے اس مو¿قف کے باعث آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) میں ایک بار پھر فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس نازک صورتحال کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے جلد کسی معاہدے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔
سی این این، سی بی ایس نیوز اور الجزیرہ کے مطابق تہران کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پوری دنیا کی نظریں ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے ممکنہ معاہدے پر مرکوز ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک مخصوص راستے پر پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں اور اس آبی گزرگاہ کے مشترکہ انتظام کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سرکاری ذرائع نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکہ پر ہے۔ اگر امریکہ اپنے وعدے کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے والے امریکی عوامل اب بھی موجود ہیں، جن میں بحری ناکہ بندی سب سے اہم ہے۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی آئل ٹینکر میں دھماکے کی تصدیق ہوئی ہے۔ برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے جمعرات کو ایکس پر بتایا کہ عمان کے قریب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ واقعہ عمان کے شہر کمزار سے تقریباً 10 میل جنوب مشرق میں پیش آیا۔ تاہم جہاز کا عملہ محفوظ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ