
نئی دہلی ،06اگست (ہ س )۔
سینٹر فار نارتھ ایسٹ اسٹڈیز اینڈ پالیسی ریسرچ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مورخہ ستائیس اور اٹھائیس جولائی 2026کو”بھارت کے شمال مشرق میں امن اور ترقی کے نئے تصور‘کے موضوع پر دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا۔ انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ،وزارت تعلیم، حکومت ہند کے مالی تعاون سے منعقدہ اس سمینار میں ماہرینِ تعلیم، پالیسی تجزیہ کاروں اور زمینی سطح پر کام کرنے والے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا تاکہ اس بات کا نئے سرے سے جائزہ لیا جا سکے کہ اس خطے میں بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تنازعات کی نوعیت اور اقتصادی ترقی کا باہمی تعلق کس طرح استوار ہو۔
اس سمینار کے انعقاد سے روایتی سکوریٹی مرکوزڈھانچوں سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل تبدیلی، آن لائن تشدد، پائے دار اقتصادی ماڈلز اور دیرپا امن جیسے جدید زمینی حقائق سے نمٹنے کے لیے ایک تنقیدی مکالمے کی ابتدا ہوئی۔
پروفیسر ایم امرجیت سنگھ، سینٹر فار نارتھ ایسٹ اسٹڈیز اینڈ پالیسی ریسرچ کے ڈائریکٹر کی استقبالیہ تقریر سے پروگرام کا آغاز ہوا۔انھوں نے اپنی تقریر میں سمینار کے انعقاد اور آئی سی ایس ایس آرجیسے اداروں کے اشتراک سے مالی معاونت والے پروجیکٹ چلانے کے لیے مرکز کے عزم کو اجاگر کیا۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ، بالخصوص عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل، جامعہ ملیہ اسلامیہ نیز مرکز کی جانب سے حاصل متواتر حمایت پر آئی سی ایس ایس آرکا شکریہ ادا کیا۔
پروفیسر ایانگبام شیام کشور،میزورم یونیورسٹی نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔ شیام کشور نے اپنے خطاب میں، شمال مشرقی ہندوستان کو ایک منفرد سماجی و ثقافتی امتزاج قرار دیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی رابطوں کو سمجھنے کے لیے اس کی تعریف کو محض سڑکوں اور پلوں تک محدود رکھنے کے بجائے سیلولر، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رسائی تک وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
گوہاٹی میں قائم کونسل فار سوشل اینڈ ڈیجیٹل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر سید ایس قاضی نے کلیدی خطاب دیا۔ خطیب نے ڈیجیٹل منظرنامے کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو جعلی خبروں، ڈیپ فیکس اور مخصوص نسلی گروہوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز مواد کی تشہیر کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران خطے میں سال دوہزار کے بعد رونما ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلیوں کا خاکہ بھی پیش کیا۔ 'سینٹر فار نارتھ ایسٹ اسٹڈیز اینڈ پالیسی ریسرچ' کے ڈاکٹر کے کوکھو کے باضابطہ شکریہ پر اجلاس کا اختتام ہوا۔
پروفیسر کومول سنگھ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے خصوصی لیکچر کی صدارت کی۔ ”نئے حالات و رجحانات کے تناظر میں شمال مشرقی ہندوستان کی اقتصادی ترقی“کے عنوان سے خصوصی لیکچر پروفیسر اتل شرما نے دیا، جو راجیو گاندھی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، تیرہویں مالیاتی کمیشن کے سابق رکن اور انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ موصوف کی پیشکش روایتی پالیسی ڈھانچوں سے نمایاں نظریاتی انحراف کو اجاگر کررہی تھی، جس میں اس بنیادی تبدیلی کی نشان دہی کی گئی کہ ہندوستان کی وسیع تر ترقیاتی بیانیے کے اندر اس خطے کو کس طرح دیکھا اور سمجھا جانا چاہیے۔ چونکہ اب زیادہ تر ریاستوں میں پرامن حالات ہیں، اس لیے یہ خطہ اب شورش زدہ پسماندہ علاقے کے طور پر نہیں جانا جاتا؛ بلکہ یہ جنوب مشرقی ایشیا اور وسیع تر ایشیا پیسیفک خطے کے لیے ہندوستان کے اسٹریٹجک، تکنیکی اور تجارتی دروازے کے طور پر اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
کلیدی خطاب اور خصوصی لیکچر کے علاوہ اس سیمینار میں چھ علمی نشستیں شامل تھیں جن میں درج ذیل موضوعات پر غور و خوض کیا گیا: (الف) سلی گوڑی کوریڈورکو سمجھنا، (ب) سرحدی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اور بھارت کے ہمسائے، (ج) ترقی کے عوامل و حرکیات، (د) شورش اور نسلی سیاست، اور (و) منشیات کی اسمگلنگ اور امن کی تعلیم سے متعلق چیلنجز۔
اختتامی اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر وجے لکشمی برارا نے کی۔ اختتامی خطاب یونیسکو ایم جی آئی ای پی کے ڈائریکٹر پروفیسر اوبیجیوفور اگینام نے”ڈیجیٹل دور میں امن کے لیے تعلیم: میڈیا اور معلومات کی خواندگی کے ذریعے راہیں“کے موضوع پر کیا۔ خطاب میں بھارت کے شمال مشرقی خطے میں تعلیمی سہولیات کو بہتر کرنے اور وہاں تعلیم کو متاثر کرنے والے مسلسل چیلنجوں سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ بحث کے دوران تعلیم، امن اور سماجی ترقی کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا گیا۔ خطاب میں ڈیجیٹل دور میں میڈیا اور معلومات کی خواندگی کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ طلبہ اور شہریوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ معلومات کا تنقیدی جائزہ لے سکیں، غلط معلومات کی شناخت کر سکیں، نفرت انگیز بیانیے کا مقابلہ کر سکیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر سکیں۔
پروفیسر ایم امرجیت سنگھ کے اظہار تشکر کے ساتھ سمینار اختتام پذیر ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais