جونیپر گرین انرجی نے اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کیا، آئی پی او سرمایہ کاروں کو فائدہ
نئی دہلی، 6 اگست(ہ س)۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی جونیپر گرین انرجی کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کردیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 225 روپے کی قیمت کی سطح پر جاری کیے گئ
سرمایہ


نئی دہلی، 6 اگست(ہ س)۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی جونیپر گرین انرجی کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کردیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 225 روپے کی قیمت کی سطح پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای پر 7.56 فیصد کے پریمیم کے ساتھ 242 روپے اور این ایس ای پر 8.89 فیصد کے پریمیم کے ساتھ 245 روپے کی سطح پر درج ہوا۔

لسٹنگ کے بعد، اسٹاک فروخت کے دباو¿ کی وجہ سے232.10 روپے کی سطح پر گر گیا۔ تاہم تھوڑی دیر بعد خریداروں نے خریداری شروع کر دیا۔ خریداری کی حمایت سے اسٹاک 251.40 روپے کی سطح پرآگیا۔ بازار میں مسلسل خرید و فروخت کے درمیان کمپنی کے حصص دوپہر 12 بجے تک تجارت کے بعد251.30 روپے کی سطح پر تجارت کر رہے تھے۔ اب تک ٹریڈنگ میں، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی حصص 26.30روپے یعنی 11.69 فیصد کامنافع حاصل ہوچکاتھا۔

کمپنی کا 1,800 کروڑ روپے کا آئی پی او 30 جولائی سے 3 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے اوسط ردعمل ملا، جس کی وجہ سے اسے مجموعی طور پر 8.38 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 26.22 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 1.92 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 0.98 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا اور ملازمین کے لیے مخصوص حصے کو 3.79 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 1,800 کروڑ روپے کے نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی آئی پی او میں تازہ حصص کی فروخت سے اکٹھا ہونے والی رقم کو اپنے پرانے قرض کے بوجھ کو کم کرنے، نئی سرمایہ کاری کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔جونیپر گرین انرجی کی مالی صحت کے حوالے سے، جیسا کہ پراسپیکٹس میں دعوی کیا گیا ہے، معمولی اتار چڑھاو¿ کے باوجود اس کی مالی صحت مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 40.06 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں کم ہو کر 36.48 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال 2025تا2026میں، کمپنی نے 40.46 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024 میں 424.45 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 569.78 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال2025تا2026 میں، کمپنی کو 804.93 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔

اس دوران کمپنی کا قرض بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 2,671.70 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 5,502.53 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال 2025تا2026کے اختتام تک کمپنی کا قرضہ 12,920.54 کروڑ روپے تک پہنچ گیاتھا۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 108.21 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 116.29 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کی مجموعی مالیت بڑھ کر 113.89 کروڑ روپے ہو گئی۔ کمپنی کے رزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں کمپنی اس محاذ پر بھی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 1,555.14 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 2,870.91 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 2,934.89 کروڑ روپے تک پہنچ گئے تھے۔ا

سی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024میں 370.84 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 485.69 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 692.18 کروڑ روپے کی سطح پرآ گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande