اسٹاک مارکیٹ میں دھول پیکیجنگ کی پریمیم انٹری، مضبوط لسٹنگ کے بعد حصص میں مزید اضافہ
نئی دہلی، 6 اگست(ہ س)۔ پلاسٹک پیکیجنگ سولیوشن تیار کرنے والی کمپنی دھول پیکیجنگ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج اسٹاک مارکیٹ میں پریمیم انٹری کی۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 97 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، یہ بی
دھول


نئی دہلی، 6 اگست(ہ س)۔ پلاسٹک پیکیجنگ سولیوشن تیار کرنے والی کمپنی دھول پیکیجنگ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج اسٹاک مارکیٹ میں پریمیم انٹری کی۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 97 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، یہ بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 13.4 فیصد کے پریمیم کے ساتھ110 روپے کی سطح پر درج ہوا۔

لسٹنگ کے بعد منافع وصولی کی وجہ سے اسٹاک گر کر 106 روپے کی سطح پر آگیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد خریداروں نے خریداری شروع کر دی جس کی وجہ سے اسٹاک 114 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ کمپنی کے حصص دن بھر کی تجارت کے بعد 112 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔ اس طرح، تجارت کے پہلے دن، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو 15 روپے فی حصص یعنی 15.46 فیصد کا منافع حاصل ہوا۔

کمپنی کا 36.36 کروڑ روپے کا آئی پی او 30 جولائی سے 3 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے خوب پذیرائی ملی، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 35.52 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 56.38 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 75.35 گنا سبسکرائب کیا گیا۔نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 40.36 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا اور ملازمین کے لیے مخصوص حصے کو 0.78 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 37,48,800 نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم ایک نئی مینوفیکچرنگ سہولت قائم کرنے، پرانے قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔

دھول پیکیجنگ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے جو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر ایس ای بی آئی کو پیش کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 1.55 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 6.04 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال2025تا2026 میں، کمپنی کا خالص منافع 8.04 کروڑ روپے تھا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024میں 48.08 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 52.43 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کی آمدنی 65.20 کروڑ روپے ہوچکی تھی۔

اس دوران کمپنی کے قرض میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 19.28 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں کم ہو کر 16.55 کروڑ روپے رہ گیا۔ پچھلے مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کے قرض کا بوجھ بڑھ کر 24.13 کروڑ روپے کی سطح پرآ گیا۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 4.10 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح، کمپنی کی مجموعی مالیت 2024تا2025 میں بڑھ کر 20.16 کروڑ روپے ہو گئی۔ یہ پچھلے مالی سال2025تا2026 میں 30.75 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔

کمپنی کے رزرواور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں کمپنی اس محاذ پر بھی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 2.10 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح 2024تا2025میں کمپنی کے رزرواور سرپلس 17.75 کروڑ روپے تک بڑھ گئے تھے۔ گزشتہ مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 20.76 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئے تھے۔

اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2023تا2024 میں 4.99 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025میںبڑھ کر 10.22 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں بڑھ کر 13.93 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande