دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کر لیے، این ایس یو آئی کی بھوک ہڑتال ختم
نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔ دہلی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے مطالبات کو تحریری طور پر قبول کیے جانے کے بعد نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے پانچ کارکنوں نے جمعرات کو اپنی آٹھ روز سے جاری بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ تنظیم نے اسے
دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کر لیے، این ایس یو آئی کی بھوک ہڑتال ختم


نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔

دہلی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے مطالبات کو تحریری طور پر قبول کیے جانے کے بعد نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے پانچ کارکنوں نے جمعرات کو اپنی آٹھ روز سے جاری بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ تنظیم نے اسے طلبہ تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے یقین دہانیوں پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی کرے گی۔

کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو احتجاجی مقام پر پہنچے اور آٹھ روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے طلبہ کے مسائل سنے اور ان کے مطالبات کو یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے مو¿ثر انداز میں پیش کیا۔

بھوک ہڑتال کرنے والے پانچ طلبہ میں سدھانت تیواری، کلدیپ گرجر، ساگر چودھری، دیپک چودھری اور پارتھ راو¿ شامل تھے۔

اس موقع پر دہلی یونیورسٹی کے جنوبی کیمپس کی ڈائریکٹر پروفیسر رجنی ابّی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے مطالبات سے متعلق تحریری یقین دہانی طلبہ کے حوالے کی، جس کے بعد پانچوں طلبہ نے پانی پی کر اپنی آٹھ روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

اس موقع پر ونود جاکھڑ نے کہا کہ یہ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے حوصلے، عزم اور اتحاد کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل آٹھ دن تک جاری رہنے والی تحریک نے یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبہ کی آواز سننے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے اپنی صحت کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی گئی ہے، لیکن جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ سے کیے گئے تمام وعدوں پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کر دیتی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande