

سنبھل، 6 اگست (ہ س)۔ اترپردیش کے ضلع سنبھل کے صدر کوتوالی علاقے میں واقع شاہی جامع مسجد کے دوسرے سروے کے دوران پیش آئے تشدد کی جانچ کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جا چکی ہے۔ اب اس وقت موقع پر موجود ہندو فریق کے وکیل شری گوپال شرما نے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں جن لوگوں کے نام درج ہیں، ان کی اس واقعے میں شمولیت تھی اور پورے معاملے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فسادیوں نے سروے ٹیم اور افسران کو قتل کرنے کی نیت سے ہی پتھراو اور فائرنگ کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ سروے کے دونوں دن، 19 اور 24 نومبر 2024 کو موقع پر موجود تھے۔ 19 نومبر کو مسلم برادری کے بعض افراد زبردستی مسجد میں داخل ہوگئے تھے، جس کے باعث سروے نہیں ہوسکا۔ جب دوبارہ سروے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے تو ان لوگوں کا مقصد سروے ٹیم اور انتظامی افسران کو قتل کرنا تھا، لیکن انتظامیہ کی موثر تیاری کے باعث وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا، جبکہ فسادیوں نے پولیس پر براہ راست فائرنگ اور پتھراو کیا، جس میں متعدد پولیس اہلکار اور انتظامی افسران زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق یہ ایک پہلے سے منظم ہجوم تھا اور ایل آئی یو کی رپورٹ میں بھی اس بات کا ذکر تھا کہ یہاں فساد بھڑک سکتا ہے، اسی لیے حکومت اور انتظامیہ نے مناسب انتظامات کیے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ منصوبہ بند فساد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔
دوسری جانب سنبھل کی متنازعہ شاہی جامع مسجد بنام ہری ہر مندر مقدمے میں عدالتی کمشنر رمیش راگھو نے صحافیوں کو بتایا کہ معزز عدالت نے انہیں اس مقدمے میں ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کیا تھا۔ انہوں نے 19 نومبر کو تقریباً 2 گھنٹے تک مقام کا سروے کیا۔ سروے کے دوران نماز کا وقت ہوگیا تھا، جس کے باعث نمازیوں کی صورت میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے اور مذہبی نعرے لگانے لگے۔ اسی دوران روشنی کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا، جس کی وجہ سے سروے روکنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد 24 نومبر کی صبح دوبارہ سروے شروع کیا گیا، جو تقریباً 2.5 گھنٹے تک جاری رہا۔ سروے کے دوران وہ مسجد کے اندر موجود تھے۔ ان کے ساتھ اس مقدمے کے مدعی وشنو شنکر جین اور اے ایس آئی کے وکیل وشنو شرما بھی تھے۔ اسی دوران باہر سے فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں۔ تقریباً 10.30 بجے انتظامیہ نے انہیں مغربی دروازے سے ہندو آبادی کے راستے محفوظ مقام پر پہنچایا۔ رمیش راگھو نے کہا کہ ان کے خیال میں ہجوم سروے میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا تھا اور اس کا مقصد سروے ٹیم پر حملہ کرنا تھا۔ ان کے مطابق یہ تشدد مکمل طور پر پہلے سے منصوبہ بند تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن