
جموں, 6 اگست (ہ س): جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو ضلع راجوری کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے گزشتہ ماہ شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور امدادی و بحالی اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔دورے سے قبل وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ راجوری میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کریں گے، متاثرہ افراد سے ملاقات کریں گے اور امدادی و بحالی کے کاموں کا جائزہ لینے کے ساتھ ضلع انتظامیہ کے افسران کے ساتھ میٹنگ بھی کریں گے تاکہ متاثرین کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے مقامی عوامی نمائندوں کے ہمراہ بیلا کالونی اور بس اسٹینڈ سمیت کئی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی باشندوں سے بات چیت کی اور نقصانات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر بیلا کالونی کے مکینوں نے مستقبل میں سیلابی خطرات سے آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط کنکریٹ بند تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحالی، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور دیگر عوامی مسائل بھی وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھے۔راجوری سے کانگریس کے رکن اسمبلی افتخار احمد، جو وزیر اعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے،اُنہوں نے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور طویل مدتی بازآبادکاری کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے راجوری میں زیر التوا منی سیکریٹریٹ منصوبے کے لیے فنڈز جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ موجودہ ضلعی انتظامی کمپلیکس غیر محفوظ ہے جبکہ عوامی خدمات کی بہتر فراہمی کے لیے نئے منی سیکریٹریٹ کی تعمیر ناگزیر ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز بھی ضلع پونچھ کے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ گزشتہ ماہ جموں خطے میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 26 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ راجوری ضلع میں پانچ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ پونچھ ضلع میں ان آفات کے دوران 16 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر