تھانے میں سپت ورنی کے پھول دو ماہ پہلے کھلے، کیا یہ موسمیاتی تبدیلی کا اشارہ ہے؟
ماہرین نے قبل از وقت شگوفوں کو موسمی تبدیلی کا ممکنہ حیاتیاتی اشارہ قرار دیا، مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت پر زورممبئی ، 6 اگست (ہ س) ۔ تھانے شہر میں سپت ورنی کا درخت، جسے ہندی میں چھتون، ستونا یا ستیا بھی کہا جاتا ہے، اس سال معمول کے مطابق اکتوبر
CLIMATE MAHA SAPTAPARNI


ماہرین نے قبل از وقت شگوفوں کو موسمی تبدیلی کا ممکنہ حیاتیاتی اشارہ قرار دیا، مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت پر زورممبئی ، 6 اگست (ہ س) ۔ تھانے شہر میں سپت ورنی کا درخت، جسے ہندی میں چھتون، ستونا یا ستیا بھی کہا جاتا ہے، اس سال معمول کے مطابق اکتوبر اور نومبر کے بجائے جولائی کے آخری ہفتے ہی پھولوں سے لد گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھول کھلنے کے وقت میں یہ غیر معمولی تبدیلی بدلتے موسم، بڑھتی ہوئی نمی اور موسمی چکر میں آنے والی تبدیلیوں کا ممکنہ حیاتیاتی اشارہ ہو سکتی ہے، تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید سائنسی تحقیق ضروری ہے۔عام طور پر سپت پرنی کے درخت پر برسات کے اختتام پر پھول آتے ہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں سے تھانے میں جولائی کے آخری ہفتے ہی اس کے خوشبودار پھول نمودار ہونے لگے ہیں۔ اس سال بھی شہر کے مختلف علاقوں سے اس درخت پر قبل از وقت پھول کھلنے کی اطلاعات اور تصاویر سامنے آئی ہیں۔

پودوں میں پھول آنے، پتے نکلنے، پتے جھڑنے اور پھل لگنے کے اوقات کے مطالعے کو سائنس کی زبان میں فینولوجی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر قدرتی حیاتیاتی چکر میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہوں تو اسے موسمیاتی تبدیلی کا ایک اہم حیاتیاتی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے سپت پرنی کا قبل از وقت کھلنا ماہرین ماحولیات اور نباتات کے لیے تحقیق کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔ماہرین نباتات کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ، ہوا اور مٹی میں نمی کی مقدار، مانسون کے بدلتے رجحانات، شہری علاقوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار جیسے عوامل پودوں کی حیاتیاتی گھڑی کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض درختوں پر معمول سے پہلے پھول آ جاتے ہیں۔ تاہم صرف اسی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی کو واحد سبب قرار نہیں دیا جا سکتا، اس کے لیے طویل مدتی سائنسی مطالعہ ضروری ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر تھانے میں سپت پرنی اور دیگر درختوں کے سالانہ پھول کھلنے کے ریکارڈ کا درجہ حرارت، بارش اور نمی کے اعداد و شمار سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو مقامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسی قدرتی تبدیلیوں کا ریکارڈ محفوظ رکھ کر تحقیقی کام میں تعاون کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جولائی کے آخر میں سپت پرنی کا کھلنا اگرچہ قدرت کا ایک دلکش منظر ہے، لیکن یہ بدلتے ہوئے ماحول کا خاموش اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس واقعے کو صرف قدرتی حسن کے طور پر دیکھنے کے بجائے سائنسی اور ماحولیاتی نقطۂ نظر سے بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ممبئی کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرشانت رویندر سنکر نے کہا، قدرت ہم سے الفاظ میں نہیں بلکہ بدلتے ہوئے موسمی چکروں کے ذریعے بات کرتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ درختوں پر پھول آنے کے ایسے تغیرات کو سائنسی انداز میں ریکارڈ کیا جائے اور ان پر تحقیق کی جائے، تاکہ مستقبل کی ماحولیاتی پالیسی سازی میں ان مشاہدات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande