
نئی دہلی، 06 اگست (ہ س)۔
مرکزی حکومت نے 23,731 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے قومی سرکولر بایو انرجی اسکیم گوبردھن یوجنا کو منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک میں گھریلو کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کی پیداوار میں تقریباً دس گنا اضافہ کرنا اور بھارت کی توانائی کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت زرعی باقیات، گوبر، پریس مڈ، بلدیاتی نامیاتی کچرے اور دیگر حیاتیاتی وسائل کو صاف ایندھن، نامیاتی کھاد، دیہی آمدنی اور قومی اقتصادی قدر میں تبدیل کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے بدھ کو اس منصوبے کی منظوری دی۔ یہ اسکیم مالی سال 2026-27 سے 2035-36 تک نافذ رہے گی اور کمپریسڈ بایو گیس کو بھارت کے مستقبل کے توانائی کے نظام کا ایک اہم ستون بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔
مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے جمعرات کو نیشنل میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ گوبردھن یوجنا سے بھارت کی صاف توانائی پر مبنی معیشت کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعے گھریلو سی بی جی کی پیداوار میں تقریباً دس گنا اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے درآمد شدہ حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت کو فروغ ملے گا۔
اشونی ویشنو نے بتایا کہ مستحکم قیمتوں کے تعین، سرمایہ جاتی امداد اور قرض کی ضمانت جیسے اقدامات نجی سرمایہ کاروں، چھوٹے، درمیانے اور ، کوآپریٹو سوسائٹیوں اور دیہی صنعت کاروں کی شرکت میں اضافہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی باقیات، گوبر اور نامیاتی فضلے کے سائنسی استعمال سے فضلہ کے انتظام میں بہتری آئے گی، کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے، نامیاتی کھاد کی پیداوار بڑھے گی، گرین ہاو¿س گیسوں کے اخراج میں کمی آئے گی، جبکہ ایک مربوط قومی فریم ورک کے ذریعے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد بھی ممکن ہو سکے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ