بنگلہ دیش میں 14 سالہ طالب علم کو جیل بھیجا گیا ، عوامی لیگ نے حکومت پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا
- کم عمر طالب علم کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی
بنگلہ دیش میں 14 سالہ طالب علم کو جیل بھیجا گیا ، عوامی لیگ نے حکومت پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا


ڈھاکہ، 6 اگست (ہ س): بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت درج مقدمے میں 14 سالہ اسکولی طالب علم کو عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اس اقدام پر اپوزیشن جماعت عوامی لیگ نے حکومت پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور عدالتی عمل میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق محمد ریمون نامی طالب علم ضلع لکشمی پور کی رام گتی تحصیل کے چار مہر عزیزیہ ہائی اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ دفاعی وکیل عبدالرب سمون نے بتایا کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کے مطابق طالب علم کی عمر 14 سال اور دو ماہ ہے۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست دی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے 2 اگست کو ریمون کو اس کے گاؤں سے گرفتار کیا۔ اگرچہ ابتدائی ایف آئی آر میں اس کا نام اور عمر مختلف درج کیے گئے تھے، لیکن بعد میں تفتیشی افسر نے دستاویزات میں ترمیم کرتے ہوئے نام اور عمر کو کم عمر طالب علم کے مطابق درست کر دیا۔

یہ مقدمہ 30 مئی کے ایک واقعے سے متعلق ہے، جب عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ کے چند کارکنوں نے ایک مقامی اسکول کے احاطے میں نعرے لگاتے ہوئے مختصر ریلی نکالی تھی۔ اس کے بعد 4 جون کو پولیس نے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا، جس میں ریمون سمیت 12 افراد کو نامزد کیا گیا۔

عوامی لیگ نے اس کارروائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کو نظر انداز کرنا، نام اور عمر سے متعلق مبینہ تضادات، اور ایک کم عمر طالب علم کو جیل بھیجنا انتظامیہ کے طرزِ عمل اور عدالتی عمل پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ فی الحال، اس مقدمے کی مزید سماعت جاری رہے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande