اے ایم یو کی تاریخ سے متعلق کتاب کانامور مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کے بدست اجراء
علی گڑھ, 06 اگست (ہ س) ۔ ممتاز مؤرخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ایمیریٹس پروفیسر عرفان حبیب نے آج سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ڈاکٹر شمیم اختر، ڈائریکٹر، مرکز برائے تعلیم بالغاں کی تصنیف ‘‘علی گڑ
کتاب اجرا


علی گڑھ, 06 اگست (ہ س) ۔

ممتاز مؤرخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ایمیریٹس پروفیسر عرفان حبیب نے آج سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ڈاکٹر شمیم اختر، ڈائریکٹر، مرکز برائے تعلیم بالغاں کی تصنیف ‘‘علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: اے ہسٹری’’ کا اجراء پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان اور دیگر معزز شخصیات کے ہمراہ کیا۔ اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے بھی تقریب میں شرکت کی اور مصنف کو مبارکباد پیش کی۔

اس موقع پر پروفیسر عرفان حبیب نے اظہار خیال کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام سے متعلق مختلف واقعات بیان کئے اور تقسیم ہند کے دور میں یونیورسٹی کی بقاء اور تحفظ کے سلسلہ میں حکومت ہند کی کاوشوں کی بطور خاص ستائش کی۔ انھوں نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ مختلف پہلوؤں سے لکھی گئی ہے تاہم یہ تصنیف اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں یونیورسٹی کے کردار اور انتظام و انصرام کے پہلوؤں کاجامع احاطہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ جہاں ایک طرف ملک کی تعمیر و ترقی میں اے ایم یو کی گرانقدر خدمات ہیں تو دوسری طرف تقسیم ہند کے بعد یونیورسٹی کو بچانے اور اسے فروغ دینے کا کام مرکزی حکومت نے کیاجس کابطور خاص اعتراف کیا جانا چاہئے۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے یونیورسٹی کی قومی اہمیت کو محسوس کیا اور وہ یہاں متعدد بار آئے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ تصنیف علی گڑھ کا مطالعہ ہے، جس میں یونیورسٹی کی ترقی کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اپنے صدارتی کلمات میں سابق قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ اے ایم یو کے قیام اور اس کی ترقی میں بے شمار افراد نے قربانیاں دی ہیں، جس کے سرخیل سرسید احمد خاں تھے۔ انھوں نے کہاکہ علی گڑھ تحریک کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے ہر محاذ پر پہل کی اور خشت اوّل رکھ کر ملک میں جدید تعلیم کی توسیع کا کارنامہ انجام دیا۔ اے ایم یو میں 1938 میں ویمنس کالج قائم ہوا جب کہ دہلی میں لڑکیوں کے متعدد معروف کالجز اس کے بعد قائم ہوئے۔ انھوں نے کہاکہ علی گڑھ تحریک کے امتیازات لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں جنھیں سامنے لائے جانے کی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے ڈاکٹر شمیم اختر کی تصنیف ایک گرانقدر اضافہ ہے۔

تقریب کے مہمانِ اعزازی پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ علی گڑھ تحریک نے ملک کے علمی و سماجی منظرنامہ کو مالامال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرسید احمد خاں کی قیادت میں اس تحریک نے سائنسی فکر اور جدید تعلیم کی روایت کو آگے بڑھایا ۔انھوں نے کہا کہ تاریخ مستقبل کے لئے رہنمائی کرتی ہے اور اے ایم یو کی تاریخ کو ترتیب دے کر ڈاکٹر شمیم اختر نے ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ انھوں نے پروفیسر عرفان حبیب کے بدست اس کتاب کے اجراء کو فالِ نیک قرار دیا۔

شعبہ تاریخ کے سابق چیئرمین پروفیسر سید علی ندیم رضاوی نے کتاب کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف ایک علمی، آئینی اور تعلیمی ادارے کے طور پر اے ایم یو کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔

پروفیسر شافع قدوائی، ڈائریکٹر، سر سید اکیڈمی نے استقبالیہ کلمات ادا کئے۔ انھوں نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ‘‘علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: اے ہسٹری’’ یونیورسٹی کے انتظام و انصرام کے پہلوؤں کا خاطر خواہ جائزہ لیتی ہے۔ کتاب میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی محض ایم اے اوکالج کی تبدیل شدہ شکل نہیں بلکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایسوسی ایشن، ایم اے او کالج اور اے ایم یو فنڈ کمیٹی تین اکائیاں تھیں جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں معاون ہوئیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شاہد نے اظہارِ تشکر کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر حسین حیدر نے انجام دئے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande