ذاکر نگر میںخواتین کارکنان کا سہ روزہ تنظیمی و تربیتی ورک شاپ
گروپ ورک اور عملی سرگرمیوں کے ذریعہ باہمی تعاون، مشاورت، منصوبہ بندی اور اجتماعی کام کے عملی پہلوؤں کا فروغ نئی دہلی،05اگست(ہ س)۔ مقامی جماعت ذاکر نگر کے زیرِ اہتمام’’کاَنہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ‘‘ کے عنوان سے خواتین کارکنان کا سہ روزہ تنظیمی و
ذاکر نگر میںخواتین کارکنان کا سہ روزہ تنظیمی و تربیتی ورک شاپ


گروپ ورک اور عملی سرگرمیوں کے ذریعہ باہمی تعاون، مشاورت، منصوبہ بندی اور اجتماعی کام کے عملی پہلوؤں کا فروغ

نئی دہلی،05اگست(ہ س)۔

مقامی جماعت ذاکر نگر کے زیرِ اہتمام’’کاَنہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ‘‘ کے عنوان سے خواتین کارکنان کا سہ روزہ تنظیمی و تربیتی ورک شاپ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس ورک شاپ کا بنیادی مقصد خواتین کارکنان میں تحریکی شعور کو مضبوط کرنا، تنظیمی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنا، دعوتی و تنظیمی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور جماعتی نظم سے وابستگی کو مستحکم کرنا تھا۔ ورک شاپ میں مقامی جماعت کی کارکنان نے بھرپور دلچسپی لی اور وقت کی پابندی اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ شرکت کی۔

پہلے دن سورہ المائدہ کی آیت نمبر 2 کی تذکیر کے بعد امیر مقامی جناب مشرف علی نے افتتاحی کلمات میں پروگرام کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ورکشاپ کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اس تحریکی شعور کو تازہ کریں جو ایک کارکن کی اصل پہچان ہوتا ہے، اور اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ ہم اللہ کے دین کی اس دعوت اور تحریک کے ساتھ کس درجے کی وابستگی رکھتے ہیں، اور آئندہ ہمیں کس سمت میں آگے بڑھنا ہے۔ تین روزہ پروگرام کے خدوخال بتانے کے بعد انہوں نے شرکائ سے گزارش کی کہ اس پروگرام کے اختتام پر سب کے پاس اپنا ایک عملی منصوبہ ہو کہ آئندہ چند ماہ میں اپنی شخصیت اور کردار میں نیز اپنے علاقے میں ہمیں کیا تبدیلی لانی ہے اور کس طرح لانی ہے۔اس کے بعد پانچ خواتین کارکنوں نے مولانا مودودی ؒ کی کتاب ”تحریک اور کارکن“ کے الگ الگ ابواب کا حاصل مطالعہ پیش کیا اور اس پر بحث ومباحثہ میں حصہ لیا۔ پھر ڈاکٹر خان یاسر کی نگرانی میں مثالی ہفتہ واری پروگرام کی منصوبہ بندی اور نفاذ پر ایک گھنٹہ کی ورک شاپ ہوئی۔ دوران ورکشاپ ہفتہ واری پروگرام کے تعلق سے کئی نادر مگر قابل عمل آئیڈیاز اور تجاویز سامنے آئیں۔ اخیر میں اوپن سیشن میں شرکائ کے سوالوں کے جواب دئے گئے۔

دوسرے دن ڈاکٹر صبیحہ خانم نے ذاکر نگر میں خواتین میں تحریکی کاموں کے دوران اپنے زمینی تجربات شیئر کیے، جو انتہائی حوصلہ افزا، انقلابی اور قابل تقلید بھی تھے۔ تمام شرکائ نے اسے بڑی دلجمعی سے سنا اور اہم نکات نوٹ کیے۔ اس کے بعد پانچ کارکن خواتین کی جانب سے نعیم صدیقی ؒ کی کتاب ”تحریکی شعور“ کا حاصل مطالعہ پیش کیا گیا اور اس پر بحث ومباحثہ ہوا۔ بعد ازاں ڈاکٹر خان یاسر کی نگرانی میں ”تحریکی و تنظیمی شعور“ پر ایک گھنٹے کی ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں تنظیم و اجتماعیت کی اہمیت، تقاضوں اور چیلنجز پر مفصل روشنی ڈالی گئی۔

تیسرے دن جناب محمد شاداب نے خرم مراد ؒ کی کتاب ”لمحات“ سے منفرد آئیڈیاز اور ایکٹیوزم کی مثالیں پیش کیں۔ اس کے بعد موقر رسالہ ’ترجمان القرآن‘ کے ایک مضمون کا اجتماعی مطالعہ ہوا۔ بعد ازاں مقامی سطح پر خواتین کے درمیان دین سے وابستگی اور دین کے فہم و شعور کو فروغ دینے کی عملی تدابیر پر ایک مذاکرہ ہوا، جس کے تحت 6 مختلف عناوین پر کارکنوں نے مختصر تقریریں کیں اور بحث ومباحثہ ہوا۔

فیڈ بیک سیشن میں تمام شرکائ نے اپنے تاثرات میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کے تربیتی اجتماعات مستقل بنیادوں پر منعقد کیے جائیں تاکہ کارکنان کی فکری، تنظیمی اور عملی تربیت کا یہ سلسلہ جاری رہے۔

ڈاکٹر خان یاسر نے اختتامی کلمات میں پورے اجتماع کا جائزہ پیش کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔انہوں نے دوران ورکشاپ حاصل ہونے والے فہم و شعور اور جذبات و کیفیات کو عملی زندگی میں منتقل کرنے پر زور دیا اور نصیحت کی کہ تحریکی ذمہ داریوں کو پورے خلوص و دلجمعی کے ساتھ نبھایا جائے اور دعوتِ دین کے کام کو اپنے اپنے حلقہ اثر میں وسعت دی جائے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا کہ اس نے اجتماع کو خیر و عافیت کے ساتھ مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اجتماع کی کامیابی میں حصہ لینے والی تمام ذمہ دار بہنوں، مقررین، منتظمین اور کارکنان کی خدمات کو سراہا گیا اور ان کے لیے دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے، اخلاص میں اضافہ کرے اور انہیں دینِ حق کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے۔

گروپ ورک اور عملی سرگرمیوں نے اجتماع کو مزید مؤثر بنایا۔ ان نشستوں میں کارکنان نے باہمی تعاون، مشاورت، منصوبہ بندی اور اجتماعی کام کے عملی پہلووں پر غور کیا۔ اس سے نہ صرف ان کی تنظیمی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا بلکہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا بھی بہترین موقع ملا۔اجتماع کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ اس میں کوئی بھی کارکن صرف سامع کی حیثیت سے شریک نہ تھی، بلکہ سب کو مختلف ذمہ داریاں ادا کرنی تھی، جسے ہر ایک نے بڑی خوش اسلوبی، احساسِ ذمہ داری اور باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ انجام دیا۔ اس سے کارکنان میں خوداعتمادی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے سیکھنے اور نتیجہ خیز گفتگو کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande