امریکا۔ ایران مذاکرات کی پیش رفت پر اعتماد میں نہ لینے سے تل ابیب کی بے چینی میں اضافہ
تل ابیب،05اگست(ہ س)۔اسرائیلی حکام نے ایران کے ساتھ امریکا کی نئی سفارتی کوششوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ہر صورت تہران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادا
امریکا۔ ایران مذاکرات کی پیش رفت پر اعتماد میں نہ لینے سے تل ابیب کی بے چینی میں اضافہ


تل ابیب،05اگست(ہ س)۔اسرائیلی حکام نے ایران کے ساتھ امریکا کی نئی سفارتی کوششوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ہر صورت تہران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو ایران سے متعلق جاری امریکی مذاکرات کی براہِ راست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث اسرائیلی حکام کو زیادہ تر اطلاعات بالواسطہ ذرائع سے حاصل کرنا پڑ رہی ہیں۔رپورٹ میں ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تل ابیب میں صدر ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمتِ عملی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی میں تیزی سے تبدیلی کے امکانات موجود ہیں، جس کے باعث اسرائیل میں تشویش پائی جاتی ہے۔اسرائیلی حکام نے نجی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمد و رفت کے لیے نئے قواعد و ضوابط طے کرنے پر منتج ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کسی مفاہمت کو دوبارہ فعال کرنے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو مذاکرات کی پیش رفت پر براہِ راست اعتماد میں نہ لینے سے تل ابیب کی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسرائیلی حلقے امریکی سفارتی حکمتِ عملی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی سے متعلق مذاکرات ابھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوئے، تاہم انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande