یوپی اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا نے ایوان میں ہنگامہ کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا
لکھنؤ، 5 اگست(ہ س)۔ اتر پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے روز بدھ کو صبح 11 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اسمبلی اسپیکر ستیش مہانا نے منگل کے روز ایوان میں ہونے والے ہنگامے کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیما
یوپی اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا نے ایوان میں ہنگامہ کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا


لکھنؤ، 5 اگست(ہ س)۔ اتر پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے روز بدھ کو صبح 11 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اسمبلی اسپیکر ستیش مہانا نے منگل کے روز ایوان میں ہونے والے ہنگامے کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی آداب کی حدود سے تجاوز کرنا اس آئینی ادارے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ روز جو کچھ ایوان میں ہوا، وہ کسی بھی آئینی ادارے کے شایانِ شان نہیں تھا اور ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کس قسم کی پارلیمانی روایات ورثے میں دے رہے ہیں۔

اسپیکر نے اپنی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا کردار اہم ہوتا ہے، جہاں مکالمہ، اتفاق اور اختلاف سب جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ اپوزیشن کا کام حکومت کی تعریف کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں ایوان میں اٹھانا ہے، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کارکردگی اور عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں سے ایوان کو آگاہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کے دوران بعض اوقات غیر معمولی حالات بھی پیدا ہوتے ہیں، لیکن گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران اسمبلی کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلتی رہی ہے۔ اس عرصے میں اپوزیشن کے اراکین کئی مرتبہ ایوان کے وسط (ویل) میں آئے، اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور پھر اپنی نشستوں پر واپس چلے گئے، مگر گزشتہ روز جو صورتحال پیدا ہوئی وہ مختلف تھی۔

ستیش مہانا نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ وقت ثابت کرے گا کہ مسئلہ آئین میں نہیں بلکہ افراد میں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں کے دوران ان کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ اسمبلی کی کارروائی آئین کے وقار اور اس کی روح کے مطابق چلائی جائے۔انہوں نے بتایا کہ بطور اسپیکر انہوں نے پہلی مرتبہ اراکین اسمبلی کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی درجہ بندی کرائی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مقننہ کسی بھی ادارے سے کم نہیں۔ اسمبلی میں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور ماہرینِ تعلیم جیسے باصلاحیت افراد عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئیں۔ایک پرانے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں وہ وقت یاد ہے جب اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ تھے اور سوامی پرساد موریہ قائدِ حزبِ اختلاف تھے۔ اس وقت بھی انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایوان کے قائد کا احترام ہر رکن پر لازم ہے، کیونکہ حلف اٹھاتے وقت اراکین اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ ایوان اور اس کی قیادت کا احترام کریں۔ اگر ہم جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر قائدِ ایوان کا احترام نہیں کریں گے تو نہ صرف یہ ادارہ کمزور ہوگا بلکہ اراکین کا وقار بھی متاثر ہوگا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اختلافِ رائے اور مباحثہ جمہوریت کا بنیادی جز ہیں، لیکن زبان اور رویے کی شائستگی ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔ ان کے مطابق پارلیمانی آداب کی خلاف ورزی اس آئینی ادارے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، جبکہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعات نے انہیں شدید مایوس اور دکھی کیا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ منگل کے روز سماجوادی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے ایوان کے وسط میں آ کر شدید احتجاج کیا تھا۔ اس دوران پارٹی کے رکن انجینئر سچن یادو وزیر اعلیٰ کی تصویر والا پوسٹر لے کر احتجاج کر رہے تھے۔ اسپیکر کی متعدد ہدایات کے باوجود وہ باز نہ آئے، جس کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔بدھ کے روز بھی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر ستیش مہانا نے تقریباً 11 بج کر 20 منٹ پر ایوان کی کارروائی پہلے آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کی، بعد ازاں اس تعطل کو دوپہر ایک بجے تک بڑھا دیا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande