
لکھنؤ، 05 اگست (ہ س):۔
اتر پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس میں بدھ کے روز بھی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی جاری رہی۔ اسمبلی میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے احتجاج پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سماج وادی پارٹی جمہوریت، دلتوں اور سماج کی مخالف جماعت ہے۔ اس کا ترقی سے کوئی سروکار نہیں، اسی لیے وہ ضمنی بجٹ پر ہونے والی بحث میں ترقی کے موضوع پر بات نہیں کر رہی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ترقی کے لیے پُرعزم ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سماج وادی پارٹی کو ترقی، نوجوانوں، خواتین اور جمہوریت مخالف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے 59 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا ضمنی بجٹ پیش کیا، لیکن ایس پی نے اس میں بھی مختلف رکاوٹیں پیدا کیں، حالانکہ اس بجٹ میں آنگن واڑی کارکنوں، مڈ ڈے میل کی باورچی خواتین، راشن ڈیلروں، چوکیداروں اور آشا کارکنوں کے اعزازیہ میں اضافہ اور ایکسپریس ویز کی تعمیر جیسے اہم منصوبے شامل ہیں، جن سے معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ضمنی بجٹ میں آئین کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، سنت رویداس، سماجی مصلح جیوتی با پھولے اور لوک ماتا اہلیہ بائی سمیت عظیم شخصیات کے مجسموں کی تنصیب، دیکھ بھال اور ان کے گرد حفاظتی دیواروں کی تعمیر کے لیے بھی فنڈ مختص کیا گیا ہے، مگر سماج وادی پارٹی کے ارکان نے ایوان میں اپنے دلت مخالف رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان عظیم شخصیات کے احترام کا بھی خیال نہیں رکھا۔
اسمبلی سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے ماضی میں ہزاروں شکشا متر (تعلیمی معاونین) کے اعزازیہ میں اضافے میں بھی رکاوٹ ڈالی تھی، لیکن ہماری حکومت نے اسے بڑھا کر 18 ہزار روپے کر دیا ہے اور انسٹرکٹرز کے اعزازیہ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی بجٹ میں ریاست کی ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندوں کی تجاویز اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، لیکن سماج وادی پارٹی ترقی اور جمہوریت دونوں کی مخالف ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ سماج وادی پارٹی کے ترقی مخالف رویے کے باوجود ڈبل انجن حکومت ریاست کی ترقی کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی اور ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ