
200 پی ایم ای بسیں اس ماہ کے آخر تک بیڑے میں ہوں گی شاملپٹنہ، 5 اگست(ہ س)۔بہار اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایس آر ٹی سی) کے بیڑے میں جلد ہی 1,500 سے زیادہ بسیں شامل ہوں گی۔ آنے والے دنوں میں مرکزی حکومت کی پی ایم ای بس سروس اسکیم کے تحت الیکٹرک بسوں، نان اے سی ڈیلکس اور اے سی ڈیلکس بسوں کی ایک بڑی کھیپ ریاست میں پہنچے گی۔ اس سے کارپوریشن کا مجموعی بسوں کا بیڑا 1,526 ہو جائے گا۔ کارپوریشن کے مطابق، مرکزی حکومت سے موصول ہونے والی 400 پی ایم ای بسوں میں سے تقریباً 200 اس مہینے کے آخر تک بیڑے میں شامل ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ 74 نان اے سی ڈیلکس اور 75 اے سی ڈیلکس بسیں بھی پہنچ رہی ہیں۔ کل 549 نئی بسوں کے اضافے سے بہار کے اندر اور بین ریاستی راستوں پرآمدو رفت کی سروس کو تقویت ملے گی۔ فی الحال، کارپوریشن کے پاس 960 سے زیادہ بسیں ہیں۔ ان میں پی پی پی موڈ کے تحت چلنے والی بسیں شامل ہیں، جو روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ مسافروں کو لے جاتی ہیں۔ نئی بسوں کی آمد سے یہ تعداد 2لاکھ سے زیادہ ہونے کی امید ہے۔پی ایم ای بس سروس اسکیم کے تحت اے سی سے لیس ای بسیں بنیادی طور پر کارپوریشن کے چھ ڈویژنوں: پٹنہ، گیا، بھاگلپور، مظفر پور، دربھنگہ اور پورنیہ میں چلیں گی۔ ان میں سے کچھ کو خواتین کے محفوظ سفر کے لیے پنک بسوں کا نام دیا جائے گا۔ وہ ایک ہی چارج پر 180 کلومیٹر تک کا سفر کرسکتی ہیں۔شہروں اور دیہاتوں میں ٹرانسپورٹ کا نظام مضبوط ہوگا : محکمہ ٹرانسپورٹ کے سکریٹری مسٹر راج کمار نے کہا کہ یہ قدم ماحولیاتی نقطہ نظر سے اہم ہے۔ ای بسیں ڈیزل کی کھپت اور کاربن کے اخراج کو کم کریں گی، جس سے شہروں میں ہوا کو صاف رکھنے میں مدد ملے گی۔ کارپوریشن پہلے ہی سی این جی اور الیکٹرک بسوں کے ذریعے آلودگی کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ نئی بسیں نہ صرف شہری علاقوں میں سفر کی سہولت فراہم کریں گی بلکہ دیہی اور بین ریاستی راستوں پر مسافروں کو بہتر سہولت فراہم کریں گی۔ جدید بس ٹرمینلز اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی سے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan