
نوئیڈا، 05 اگست (ہ س)۔ گوتم بدھ نگر ضلع انتظامیہ نے سات پرائیویٹ اسکولوں پر ایک-ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ ان اسکولوں پر اتر پردیش فیس ریگولیشن ایکٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ انہوں نے مقررہ حد سے زیادہ فیس بڑھائی یا بغیر منظوری کے مختلف چارجز عائد کیے۔
ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے مطابق، اسکولوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ ان کی صدارت میں منعقدہ ڈسٹرکٹ فیس ریگولیٹری کمیٹی کے اجلاس میں لیا گیا۔ کمیٹی نے 27-2026 تعلیمی سیشن کے لیے پرائیویٹ اسکولوں کی مجوزہ فیس میں اضافے کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے اترپردیش سیلف فائنانسڈ انڈیپنڈنٹ اسکولس (فیس ریگولیشن) ایکٹ کے قواعد کی پاسداری کی جانچ کی۔
جائزہ اجلاس میں پایا گیا کہ دس پرائیویٹ اسکولوں نے 27-2026 تعلیمی سیشن کے لیے 7.23 فیصد کی زیادہ سے زیادہ مقررہ حد سے زیادہ فیس بڑھائی۔ نوئیڈا کے سیکٹر 21 کے ایک اور اسکول نے کمپوزٹ فیس کے علاوہ الگ سے سالانہ فیس بھی وصول کی۔ یہی نہیں 26-2025 تعلیمی سیشن کے لیے اپنا فیس اسٹرکچر بھی اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا۔ اس طرح ان اسکولوں نے غلطیاں کیں۔
کمیٹی نے ان غلطیوں کو اترپردیش سیلف فائنانسڈ انڈیپنڈنٹ اسکولس (فیس ریگولیشن) ایکٹ کے تحت پہلی بار کی گئی غلطی مانا۔ کمیٹی نے سات اسکولوں میں سے ہر ایک پر ایک-ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ انتظامیہ نے کہا کہ جن اسکولوں میں مقررہ حد سے زیادہ فیس بڑھائی گئی تھی، ان کو پہلے نوٹس جاری کر کے ایکٹ کے قواعد کی پاسداری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم، نوٹس کے باوجود سات اسکول ان خلاف ورزیوں کو درست کرنے میں ناکام رہے۔
کمیٹی نے سات اسکولوں کے رویے کو غلط مانا اور ان کے خلاف تعزیری کارروائی شروع کی۔ گوتم بدھ نگر ضلع انتظامیہ نے کہا کہ ’اتر پردیش سیلف فائنانسڈ انڈیپنڈنٹ اسکولس (فیس ریگولیشن) ایکٹ‘ کے تحت پرائیویٹ اسکول قانونی قواعد کی پاسداری کیے بغیر مقررہ حد سے زیادہ فیس نہیں بڑھا سکتے ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے اس فیصلے سے ضلع کے تمام پرائیویٹ اسکولوں کو ایک سیدھا پیغام جائے گا کہ اگر قواعد و ضوابط نہیں مانے تو ایکشن طے ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن