
کیف (یوکرین)، 05 اگست (ہ س)۔ یوکرین کے دارالحکومت اور گردونواح میں رات بھرکیے گئے روسی حملوں میں 17 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد شہری زخمی ہو گئے۔ یوکرین کی فضائیہ نے کہا کہ روس نے رات بھر 24 بیلسٹک میزائل اور چار اینٹی شپ میزائل داغے۔ پہلی بار اپنے بیان میں فضائیہ نے ان میں سے کسی کو روکنے کا ذکر نہیں کیا۔ یوکرین کے فوجی ذرائع کے مطابق فوج کے پاس میزائل انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ بہت کم رہ گیاہے۔
سی این این کے مطابق جولائی میں یوکرین میں روسی حملوں میں کم از کم 377 شہری ہلاک اور 2,129 زخمی ہوئے۔ اپریل 2022 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہی مہینے میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ چار سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے باوجود یہ جارحیت کا سب سے مہلک مہینہ تھا۔ روس کا راتوں رات تازہ ترین حملہ ایک روسی ای کامرس کمپنی وائلڈبیریز کا ردعمل معلوم ہوتا ہے۔ یوکرین نے حال ہی میں کمپنی کے گوداموں کو نشانہ بنایا ہے۔
روس نے یوکرین کے دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے گوداموں اور رسد کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ حملے میں کئی صنعتی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا، اس حملے کا اصل ہدف شہری کاروبار سے تعلق رکھنے والے گودام تھے۔ انہوں نے کہا کہ بیئر فیکٹری اور ہارڈویئر اسٹور، ریلوے اسٹیشن اور دیگر انفراسٹرکچر کے گوداموں کو نقصان پہنچا ہے۔
یوکرین کی ایمرجنسی سروس نے بدھ کو کہا کہ امدادی کارکن خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ روس سے حملے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس حملے میں گائیڈڈ زمین سے لانچ کیے جانے والے سٹیک ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ زیلنسکی نے ایک بار پھر یوکرین کے اتحادیوں سے روسی میزائلوں کو مار گرانے کے لیے درکار فوجی ساز و سامان فراہم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے لیے امریکی ساختہ انٹرسیپٹرز کی کمی کا سامنا ہے، یہ واحد دفاعی نظام ہے جو کچھ جدید بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی