اے ایم یو میں آئی سی ایس ایس آر کے تعاون سے سماجی علوم میں ریسرچ میتھڈلوجی کورس کا آغاز
علی گڑھ, 05 اگست (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ میں انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر)، نئی دہلی کے اشتراک سے سماجی علوم میں 10 روزہ ریسرچ میتھڈلوجی کورس کا آغاز ہوا، جس کا مقصد نوجوان محققین اور پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوز کی
ریسرچ


علی گڑھ, 05 اگست (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ میں انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر)، نئی دہلی کے اشتراک سے سماجی علوم میں 10 روزہ ریسرچ میتھڈلوجی کورس کا آغاز ہوا، جس کا مقصد نوجوان محققین اور پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوز کی تحقیقی صلاحیتوں کو عصر حاضر کے تحقیقی طریق ہائے کار، جدید تجزیاتی تکنیکوں اور جدید ڈیجیٹل آلات کی جامع تربیت کے ذریعہ مستحکم کرنا ہے۔

اس پروگرام میں جموں و کشمیر، میزورم، اتر پردیش، آندھرا پردیش، کیرالہ، مغربی بنگال اور دہلی کی مختلف جامعات اور اداروں سے 37 اسکالرز شرکت کررہے ہیں۔

افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے اپنے خطاب میں بین شعبہ جاتی تحقیق کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی اور سماجی علوم کی تحقیق میں بنیادی اعداد و شمار کے کلیدی کردار پر زور دیا۔ انہوں نے اے ایم یو کے کثیر شعبہ جاتی تعلیمی ماحول کا ذکر کیا، جو مختلف شعبوں کے درمیان مشترکہ تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کورس ڈائریکٹر پروفیسر ارشد امین نے شعبہ جغرافیہ کی شاندار علمی روایت کو اجاگر کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ پروگرام شرکاء کو اعلیٰ معیار کی تحقیق کے لیے ضروری نظریاتی علم کے ساتھ عملی تحقیقی مہارتوں سے بھی آراستہ کرے گا۔

شعبہ جغرافیہ کے قائم مقام چیئرپرسن پروفیسر راشد عزیز فریدی اور پروفیسر سید نوشاد احمد نے بھی شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے جغرافیائی تحقیق کے میدان میں شعبہ جغرافیہ کی طویل علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔

مہمان اعزازی اے ایم یو ویمنس پولی ٹیکنک کی پرنسپل پروفیسر پروین فاروقی نے ابتدائی مرحلے میں تحقیقی صلاحیتوں کی نشاندہی اور تدریسی عمل کے ساتھ تحقیقی مواد کے مؤثر انضمام کی اہمیت پر زور دیا تاکہ بامقصد تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے معیاری تحقیق میں تحقیقی اخلاقیات، سائنسی جستجو، تنقیدی فکر اور وقت کے مؤثر بندوبست کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

شریک کورس ڈائریکٹر ڈاکٹر صالحہ جمال نے پروگرام کے خدوخال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں ریسرچ ڈیزائن، اعداد و شمار کے حصول، ڈیٹا کے تجزیے، اشاعتی اخلاقیات اور جدید تحقیقی طریق ہائے کار سے متعلق مختلف نشستیں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شرکاء کو ریموٹ سینسنگ، جی آئی ایس اور ایس پی ایس ایس کی عملی تربیت بھی دی جائے گی۔

آخر میں ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے اظہارتشکر کیا۔ انھوں نے نظامت کے فرائض بھی انجام دئے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande