نیلوفر ہاسپٹل میں بیڈ نہ ملنے پر حاملہ خواتین گھنٹوں کرسیوں پر بیٹھنے پر مجبور
حیدرآباد ، 5 اگست (ہ س)۔ حیدرآباد کے معروف نیلوفرہاسپٹل میں بیڈ کی عدم دستیابی کے باعث حاملہ خواتین کوکئی گھنٹوں تک کرسیوں پربیٹھ کرانتظارکرناپڑرہا ہے۔ مریضوں کے رشتہ داروں نے ہاسپٹل کے عملے پر بے حسی اورعدم توجہی کا الزام عائد کیا ہے۔ ذرائع کے مط
نیلوفر ہاسپٹل میں بیڈ نہ ملنے پر حاملہ خواتین گھنٹوں کرسیوں پر بیٹھنے پر مجبور


حیدرآباد ، 5 اگست (ہ س)۔ حیدرآباد کے معروف نیلوفرہاسپٹل میں بیڈ کی عدم دستیابی کے باعث حاملہ خواتین کوکئی گھنٹوں تک کرسیوں پربیٹھ کرانتظارکرناپڑرہا ہے۔ مریضوں کے رشتہ داروں نے ہاسپٹل کے عملے پر بے حسی اورعدم توجہی کا الزام عائد کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کئی حاملہ خواتین صبح سے ہی ہاسپٹل میں موجود رہیں، تاہم انہیں فوری طور پربیڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ طویل انتظار کے باعث حاملہ خواتین کو شدید مشکلات اورذہنی اذیت کاسامنا کرنا پڑا۔

ایک واقعے میں خیریت آباد سے تعلق رکھنے والی حاملہ خاتون صبح تقریباً 11:40 بجے نیلوفر ہاسپٹل پہنچی، لیکن مبینہ طور پراسے رات 10 بجے کے قریب بیڈ فراہم کیاگیا۔ اس دوران خاتون کوکئی گھنٹوں تک ہاسپٹل میں انتظارکرناپڑا۔

خاتون کے اہل خانہ نے جب طویل انتظار سے پریشان ہوکراسے کسی دوسرے ہاسپٹل منتقل کرنے کا فیصلہ کیاتو مبینہ طور پرہاسپٹل کے عملے نے انہیں جانے کی اجازت نہیں دی۔ اہل خانہ کے مطابق عملے نے کہا کہ مریضہ کوپہلے ہی نیلوفرہاسپٹل میں داخل کیا جاچکاہے۔

اس صورتحال کے باعث حاملہ خواتین اوران کے اہل خانہ میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ اسپتال کے عملے نے حاملہ خواتین کی حالت اور ان کی فوری ضروریات پر مناسب توجہ نہیں دی۔

واقعے نے نیلوفرہاسپٹل میں بیڈزکی دستیابی، مریضوں کی بڑھتی تعداد اورہاسپٹل کے انتظامی انتظامات پرسوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ مریضوں کے رشتہ داروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیڈز کی کمی کا فوری حل نکالا جائے اور حاملہ خواتین کوبروقت علاج اور مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔

حاملہ خواتین کوگھنٹوں انتظارکرنے کی مبینہ شکایات کے بعد ہاسپٹل انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر وضاحت کا انتظار کیا جارہاہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande