
جموں, 5 اگست (ہ س): جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی کے سات سال مکمل ہونے کے موقع پر کانگریس اور نیشنل کانفرنس (این سی) نے بدھ کو جموں میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ریاستی درجے کی بحالی اور زمین، روزگار سمیت آئینی حقوق کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے شہیدی چوک کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا، جہاں پارٹی کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ بعد ازاں کارکنوں نے شہر کے مرکز کی جانب مارچ کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا، جس کے دوران معمولی دھکم پیل بھی ہوئی۔
اس موقع پر کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کے عوام اپنے آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاستی درجہ بحال کیا جائے اور زمین، روزگار و دیگر آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ادھر نیشنل کانفرنس نے شیرِ کشمیر بھون کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی کارکن سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے تھے اور بینر و جھنڈے اٹھا کر ریاستی درجہ اور آئینی حقوق کی بحالی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے این سی کارکنوں کے مارچ کو بھی آگے بڑھنے سے روک دیا، جس سے مختصر وقت کے لیے دھکم پیل کی صورتحال پیدا ہوئی۔
این سی رہنماؤں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کا فیصلہ عوام کے مفادات کے خلاف تھا اور پارٹی ریاستی درجہ اور آئینی حقوق کی بحالی کے مطالبے پر قائم ہے۔ انہوں نے دہشت گردی سے متعلق بی جے پی کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حالات معمول پر آ چکے ہیں تو سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کیوں جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر