
سیول، 5 اگست(ہ س)۔ جنوبی کوریا اور امریکا کے مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران شمالی کوریا کی سرحد سے متصل علاقے میں ایک امریکی فوجی ڈرون کی پرواز دیکھے جانے کے بعد سیکیورٹی ادارے فوری طور پر متحرک ہو گئے، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔
جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) نے بتایا کہ یہ ڈرون شمالی گیونگگی صوبے میں شمالی کوریا کی سرحد کے قریب دیکھا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد اس کی شناخت جنوبی کوریا میں تعینات امریکی میرین کور کے ایک بغیر پائلٹ کے فوجی طیارے (ڈرون) کے طور پر کی گئی، جو دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشق میں حصہ لے رہا تھا۔
امریکی فورسز کوریا((یو ایس ایف کے) نے بھی تصدیق کی کہ ڈرون ان کا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ پرواز امریکا اور جنوبی کوریا کی میرین فورسز کے درمیان جاری مشترکہ تربیتی مشقوں کا حصہ تھی۔ حکام نے بتایا کہ واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں مقامی حکام کے ساتھ مکمل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سرحدی علاقے چیور وون میں ڈرون کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر مقامی انتظامیہ نے فوری الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطاً محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت دی تھی۔جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق ابتدا میں یہ واضح نہیں تھا کہ ڈرون شمالی کوریا کا ہے یا امریکا کا، تاہم بعد میں تصدیق ہوئی کہ یہ امریکی فوج کا ڈرون تھا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ڈرون نے 2018 کے بین الکوریائی فوجی معاہدے کے تحت قائم سابقہ نو فلائی زون کے اوپر پرواز کی تھی یا نہیں۔ یہ معاہدہ دونوں کوریاؤں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا، تاہم بعد میں باہمی تعلقات میں بگاڑ آنے کے بعد اسے معطل کر دیا گیا تھا۔جنوبی کوریا اور امریکا کے فوجی حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan