
نئی دہلی، 5 اگست(ہ س)۔ آل انڈیا ملّی کونسل نے بنگلہ دیش کی مفرور مصنفہ تسلیمہ نسرین کے اس بیان کی شدید لفظوں میں مذمت کی ہے، جس میں اس نے دینی مدارس کے بارے میں نہایت اشتعال انگیز، گمراہ کن اور حقائق سے عاری باتیں کہی ہیں۔مرکزی دفتر آل انڈیا ملّی کونسل سے جاری پریس بیان میں کونسل کے کارگزار صدر، مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ جس طرح اس مصنفہ نے دینی مدارس کو انتہا پسندی کو فروغ دینے اور اسے ’’جہادی سرگرمیوں اور جہادی‘‘ تیار کرنے کا الزام لگایا ہے، وہ صریح بہتان، کھلی کذب بیانی اور ایک پوری مذہبی وتعلیمی روایت کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش ہے، جس کی آل انڈیا ملّی کونسل شدید لفظوں میں مذمت کرتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ خود ایک غیرملکی ہے جس نے ہندوستان میں پناہ لے رکھی ہے اور اس ملک کے مذہبی، آئینی اور سماجی معاملات پر نفرت انگیز تبصرے کررہی ہے۔ ملی کونسل نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کو واضح طور پر اس کی قانونی حدود میں رہنے کا پابند بنائے اور اس قسم کی قابل مذمت عمل اور اشتعال انگیز بیان بازی کے لیے مستقبل میں بھی اس پر سخت انگشت نمائی کرنے کی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب، آل انڈیا ملّی کونسل نے اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے اسمبلی میں دیئے گئے بیان کی بھی شدت کے ساتھ مذمت کی ہے۔ کارگزار صدر کونسل، مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ جس طرح کیشو پرساد موریہ نے مدارس اور ان کے طلبہ پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ’’مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم نہیں گاتے، ان کی ذہنیت دہشت گردوں والی ہوتی ہے۔‘‘ ایک ناقابل معافی بیان ہے اور جس کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کو اپنی ان باتوں کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔ کیوںکہ یہ ان کے ذہنی دیوالیہ پن کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے عدم واقفیت اور ان کی فرقہ پرستی کا بھی مظہر ہے۔ ملی کونسل نے آگے کہا کہ موریہ جی کا بیان انتہائی غیرذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور ملک کی عظیم ملی ودینی روایت اور تاریخ کے ساتھ ساتھ اس آئین کی بھی سراسر توہین ہے، جس میں ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔ ملی کونسل کیشو پرساد موریہ کی پراگندہ سوچ اور تعصب سے بھری باتوں کو قابل مذمت بتایا ہے اور جس کے لیے نائب وزیر اعلیٰ اترپردیش کو عام لوگوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، کیوںکہ اس طرح کے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو بھی غیرمعمولی نقصان پہنچتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais