بھوپال میں برکس ثقافتی کانفرنس میں تین خصوصی نمائشیں جاذبِ نظر کا مرکز بنیں
بھوپال، 5 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے کشابھاو ٹھاکرے بین الاقوامی کنونشن سینٹر میں بدھ سے شروع ہوئی برکس ثقافتی کانفرنس میں ہندوستان کی مالامال ثقافتی میراث، سمندری تہذیب، علم کی روایت اور برکس ممالک کے مشترکہ ثقافتی روابط کو پی
برکس ثقافتی کانفرنس کے مقام پر لگی نمائشیں


برکس ثقافتی کانفرنس کے مقام پر لگی نمائشیں


برکس ثقافتی کانفرنس کے مقام پر لگی نمائشیں


بھوپال، 5 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے کشابھاو ٹھاکرے بین الاقوامی کنونشن سینٹر میں بدھ سے شروع ہوئی برکس ثقافتی کانفرنس میں ہندوستان کی مالامال ثقافتی میراث، سمندری تہذیب، علم کی روایت اور برکس ممالک کے مشترکہ ثقافتی روابط کو پیش کرنے کے مقصد سے ’پروجیکٹ موسم‘، ’برہتر بھارت‘ (عظیم تر ہندوستان) اور ’گیان بھارتَم‘ عنوانات کے تحت تین خصوصی نمائشیں منعقد کی گئی ہیں۔

مندوبین اور آنے والوں کے لیے یہ نمائشیں اہم توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ان کے ذریعے ہندوستان کی سمندری میراث، علم کی روایت اور عالمی ثقافتی تعاون کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ نمائشیں 07 اور 09 اگست کو عام شہریوں کے لیے بھی کھلی رہیں گی، جہاں وہ ہندوستان کی مالامال ثقافتی میراث، عالمی ثقافتی تنوع اور علم کی روایت کا براہِ راست تجربہ حاصل کر سکیں گے۔

پبلک ریلیشنز آفیسر انوراگ اوئیکے نے بتایا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) اور مرکزی حکومت کی وزارتِ ثقافت کے لیے ’ڈیزائن فیکٹری انڈیا‘ کی جانب سے تیار کردہ ’پروجیکٹ موسم‘ نمائش آنے والوں کو مانسونی ہواوں سے شکل اختیار کرنے والی مشترکہ سمندری میراث اور بحرِ ہند کے علاقے میں دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے فروغ پانے والے ثقافتی تعلقات کے تاریخی سفر سے روشناس کراتی ہے۔

’پروجیکٹ موسم‘ وزارتِ ثقافت کی ایک اہم پہل ہے، جس کا مقصد مشترکہ ثقافتی، تاریخی اور سمندری میراث سے بحرِ ہند کے خطے سے مربوط ممالک کے درمیان قدیم تعلقات کو پھر سے زندہ کرنا ہے۔ تحقیق، تحفظ، دستاویزی اندراج اور بین الاقوامی تعاون سے یہ پروجیکٹ صدیوں پرانے ثقافتی رابطوں کو مضبوط بنانے اور بین الثقافتی گفتگو کو فروغ دے رہا ہے۔

نمائش میں یونیسکو کے لیے کثیر القومی عالمی ثقافتی میراث کی نامزدگی کے تصور کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں تاریخی تجارتی راستوں، ساحلی بستیوں، مذہبی نیٹ ورکس اور ثقافتی مناظر کو مشترکہ عالمی میراث کے طور پر محفوظ کیے جانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

نمائش کا آغاز ایک امرسیو فلم سے ہوتا ہے، جو مانسونی ہواوں کے اثر سے فروغ پانے والے سمندری تجارتی راستوں اور بحرِ ہند کے علاقے میں ہونے والے ثقافتی تبادلے کی کہانی پیش کرتی ہے۔ ’سیل ود دی مانسون‘ سرگرمی میں آنے والے اوریگامی آرٹ سے کشتی بنا کر اس پر مشترکہ میراث سے جڑے اپنے خیالات درج کرتے ہیں۔ وہیں ’ڈسکور شیئرڈ ہیریٹیج‘ ڈیجیٹل انٹرایکٹو سے ہندوستان اور بحرِ ہند کے خطے کے ممالک کے مشترکہ میراث کے مقامات کی معلومات دی جا رہی ہے۔

وضاحتی گرافکس پینلوں میں تجارت، مذہب، نقل مکانی اور علم کے تبادلے کو دلکش انداز میں دکھایا گیا ہے۔ وہیں، ایک خصوصی روڈ میپ سے میراث کے مقامات کی شناخت، جی آئی ایس پر مبنی دستاویزی اندراج، علاقائی تحقیق، بین الاقوامی تعاون، یونیسکو نامزدگی، صلاحیت سازی، تحفظ کی تربیت نیز ڈیجیٹل آرکائیوز کے پورے عمل کو آسان زبان میں سمجھایا گیا ہے۔

پبلک ریلیشنز آفیسر نے بتایا کہ ’برہتر بھارت‘(عظیم تر ہندوستان) نمائش دنیا کے ساتھ ہندوستان کے ثقافتی تعلقات اور مشترکہ غیر مادی میراث کی نمائش ہندوستان اور دنیا کے درمیان ہزاروں سالوں سے چلے آ رہے ثقافتی، روحانی، فکری اور فنکارانہ تعلقات کو اجاگر کرتی ہے۔ نمائش بتاتی ہے کہ جدید سیاسی حدود بننے سے بہت پہلے ہندوستان تاجروں، بدھ بھکشوؤں، دانشوروں، فنکاروں اور سیاحوں کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور دنیا کے متعدد ممالک سے جڑا ہوا تھا۔ یہ نمائش واضح کرتی ہے کہ ’برہتر بھارت‘ کسی سیاسی توسیع کا تصور نہیں، بلکہ ثقافتی گفتگو، علم کے تبادلے اور مشترکہ انسانی قدروں کی علامت ہے۔

نمائش میں شہنشاہ اشوک کے ذریعے سورن بھومی میں بدھ مت کی تبلیغ، انڈونیشیا کے کٹئی کتبے اور ملک عنبر کی تاریخی مثالوں سے ہندوستان اور دنیا کے درمیان صدیوں پرانے ثقافتی تعلقات کو پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انڈونیشیا کے برمبنان مندر، وایانگ کولت روایت، ویتنام کی بالامون چام برادری، تھائی لینڈ کی ویدک روایت نیز سلک روڈ سے ہوئے ثقافتی تبادلے کو بھی دکھایا گیا ہے۔

نالندا کے تانبے کے پتروں، قدیم کتبوں اور قلمی نسخوں کے ذریعے مشترکہ تاریخ کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ ملائیشیا کی جاوی رسم الخط میں تحریر شدہ ’حکایت سری رام‘ نیز انڈونیشیا کے حکمران بال پتر دیو کے ذریعے نالندا یونیورسٹی میں وہار کی تعمیر جیسی مثالیں ہندوستان کے گہرے ثقافتی اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

موسیقی، رقص اور فنِ تعمیر سے جڑی مثالیں بھی نمائش کی اہم توجہ ہیں۔ چین کا پیپا، ہندوستان کی ویٹا، ازبکستان کے رباب سے تیار شدہ سارود، تھائی لینڈ کا کھون رقص، ویتنام کا چام اپسرا رقص، بوروبدور، مائی سن مندر، تاج محل نیز ہمایوں کا مقبرہ مشترکہ ثقافتی میراث کی مالامال روایت کو نمایاں کرتے ہیں۔

یہ نمائش ’وسودھیو کٹمبکم – ایک زمین، ایک کنبہ، ایک مستقبل‘ کے ہندوستانی فلسفے کو طاقتور انداز میں پیش کرتے ہوئے ثقافت کو دنیا کو جوڑنے کا موثر ذریعہ بتاتی ہے۔

پبلک ریلیشنز آفیسر انوراگ اوئیکے نے بتایا کہ ’گیان بھارتَم‘ مرکزی حکومت کی وزارتِ ثقافت کی ایک اہم قومی پہل ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں دستیاب قدیم قلمی نسخوں کا سروے، سائنسی تحفظ، اے آئی پر مبنی ڈیجیٹلائزیشن نیز عالمی سطح پر ان کے مطالعے اور اشاعت کو فروغ دینا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت اب تک 1.19 کروڑ سے زیادہ قلمی نسخوں کا دستاویزی اندراج کیا جا چکا ہے۔ نمائش میں ڈیجیٹل ڈسپلے اور انٹرایکٹو ذرائع سے ہندوستانی علم کی روایت، قلمی نسخوں کے تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی معلومات دی جا رہی ہے۔ آنے والے یہاں ریاضی، فلسفہ، ادب، روحانیت اور ویدک علم سے جڑے نایاب قلمی نسخوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

اہم کشش میں 16ویں صدی کی ’لیلاوتی‘، 18ویں صدی کی ’ریکھا گنت‘، سلکان ویفر پر محفوظ ’شریمَد بھگود گیتا‘، ’شری کالیکا کاچم‘، سچتر ’شریمَد بھگود گیتا‘، ’سرو دیو درشن اسٹوترا‘، 15ویں صدی کی ’پنج تنتر‘ اور مہارشی یاسک کی تخلیق کردہ ’نیرکت‘ شامل ہیں۔ یہ قلمی نسخے ہندوستانی ریاضی، فلسفہ، ادب، لسانیات اور روحانی روایت کی مالامال میراث کو جیتے جاگتے روپ میں پیش کرتے ہیں۔

پبلک ریلیشنز آفیسر نے بتایا کہ برکس کانفرنس میں مدھیہ پردیش کا خصوصی پویلین بھی دیش ودیش سے آئے مندوبین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یونیسکو عالمی ثقافتی میراث سانچی اسٹوپا کے مرکزی تورن دوار کی شبیہ پر مبنی اس پویلین میں ریاست کی قدرتی، ثقافتی اور سیاحتی میراث کو موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پویلین غیر ملکی مندوبین کو مدھیہ پردیش کی سیاحتی صلاحیت اور ثقافتی تنوع سے بھی روشناس کرا رہا ہے۔

پویلین میں ریاست کے اہم ٹائیگر ریزرو، قومی پارک، جنگلی حیات کی پناہ گاہیں، آبشار اور ایکو ٹورزم کے مقامات کے ساتھ کھجوراہو، سانچی، بھیم بیٹکا، مانڈو، گوالیار، اورچھا اور مہیشور جیسے تاریخی و ثقافتی مقامات کو دلکش انداز میں دکھایا گیا ہے۔ جدید ویژول ڈسپلے، تشہیری مواد اور سیاحتی ادب کے ذریعے آنے والوں کو مدھیہ پردیش کی جنگلی حیات، میراث، روحانی، دیہی، مہم جوئی اور تجربی سیاحت کی تفصیلی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پویلین میں موسیقی، مٹی کے فن، گونڈ پینٹنگ اور نندنا بلاک پرنٹنگ جیسے روایتی فنون کا بھی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ فنکار راہل شریواس، لکشمی نارائن پرجاپتی، آکاش کمار، جے نتی کُشرام، ونود مالے وار اور نند کمار ساہو اپنے اپنے فن کے ذریعے مدھیہ پردیش کی مالامال ثقافتی میراث کو عالمی منچ پر پیش کر رہے ہیں۔ وہیں ’وندھیا ویلی‘ برانڈ کے تحت خود امدادی گروہوں، کسانوں نیز مقامی پیداوار کنندگان کے تیار کردہ مصنوعات بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔

برکس ثقافتی کانفرنس میں منعقدہ ’پروجیکٹ موسم‘، ’ورہتر بھارت‘ اور ’گیان بھارتَم‘ نمائشیں ہندوستان کی سمندری میراث، علم کی روایت اور مشترکہ ثقافتی ورثے کو عالمی منچ پر مؤثر انداز میں پیش کر رہی ہیں۔ وہیں مدھیہ پردیش پویلین ریاست کی سیاحتی صلاحیت، ثقافتی میراث، لوک و قبائلی فن نیز مقامی مصنوعات کو بین الاقوامی شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ نمائشیں ’سروے بھونتو سکھنہ‘ اور ’وسودھیو کٹمبکم‘ کے ہندوستانی تصور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے برکس ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون اور باہمی سمجھ بوجھ کو نئی مضبوطی عطا کر رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande