اے ایم یو اور جمہوریہ چیک کی وی ایس بی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف اوستراوا کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط
علی گڑھ، 05 اگست (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے چیک جمہوریہ کی وی ایس بی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف اوستراوا کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اختراع اور تکنیکی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک اہم یادداشت مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کیے
ایم او یو


علی گڑھ، 05 اگست (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے چیک جمہوریہ کی وی ایس بی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف اوستراوا کے ساتھ اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اختراع اور تکنیکی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک اہم یادداشت مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

وائس چانسلر دفتر میں گزشتہ 3اگست کو اس ایم او یو پر دستخط کئے گئے جو عالمی تعلیمی منظرنامے میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے اور طلبہ و اساتذہ کے لیے بین الاقوامی مواقع میں وسعت پیدا کرنے کی اے ایم یو کی مسلسل کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

اے ایم یو کی جانب سے رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے ڈین پروفیسر نثار احمد، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل اور ڈائریکٹریٹ آف ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر عمر فاروق کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔

وی ایس بی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف اوستراوا کے وفد میں فیکلٹی آف میٹریل سائنس اینڈ ٹکنالوجی کی ڈین پروفیسر انجینئر کامیلا یانوفسکا، وائس ڈین فار اسٹڈیز پروفیسر کیٹرینا اسکوٹنیکووا، فیکلٹی آف میٹریل سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے پروفیسر انجینئر ولاستیمیل ماتئیکا، اور ریسرچ سائنسداں ڈاکٹر کے پروین کمار شامل تھے۔ دونوں اداروں نے اس دورے کو مشترکہ تعلیمی اقدار اور تحقیقی امنگوں پر مبنی ایک طویل مدتی استراتیجی شراکت داری کا نقطہ آغاز قرار دیا۔

پانچ سالہ معاہدہ طلبہ اور اساتذہ کے تبادلہ پروگرام، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، علمی دوروں، انٹرن شپ، مشترکہ تحقیقی اشاعتوں، معلومات و تجربات کے تبادلے اور دیگر علمی سرگرمیوں کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس یادداشت مفاہمت کو اے ایم یو کے عالمی تعلیمی روابط کو وسعت دینے کے سفر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اشتراک سے تحقیق، اختراع اور تعلیمی امتیاز کے نئے امکانات پیدا ہوں گے کیونکہ اس کے ذریعہ دونوں اداروں کی علمی صلاحیتیں یکجا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بامعنی بین الاقوامی شراکت داری جامعات کو علوم کے تبادلے، ایک دوسرے کی مہارتوں سے استفادہ اور عالمی اہمیت کے حامل ابھرتے ہوئے سائنسی و تکنیکی چیلنجوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے قابل بناتی ہے۔

ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے اس تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری سے طلبہ اور اساتذہ کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ تحقیقی نظام اور جدید تکنیکی طریقہ کار سے واقف ہونے کا قیمتی موقع ملے گا۔

چیک وفد کے اراکین نے اے ایم یو کی شاندار علمی روایت کو سراہتے ہوئے دیرپا ادارہ جاتی روابط قائم کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں جامعات کے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے درمیان بامعنی علمی تبادلوں، مشترکہ تحقیق اور طویل مدتی تعاون کو فروغ دے گا۔

یہ تازہ اشتراک بین الاقوامی تعلیمی روابط کے فروغ اور تدریس و تحقیق اور اختراع میں عمدہ عالمی روایات کو اختیار کرنے کے اے ایم یو کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران یونیورسٹی نے تعلیمی شراکت داریوں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلہ پروگراموں کے ذریعہ اپنے بین الاقوامی روابط کو مستحکم کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande