
بیڑ، 5 اگست (ہ س)۔ امباجوگائی، لاتور، کیج، دھارور اور کلمب سمیت 28 دیہات کو پانی فراہم کرنے والے مانجرا ڈیم میں اس وقت صرف 16 فیصد قابل استعمال پانی باقی رہ گیا ہے۔ جون اور جولائی، جو مانسون کے اہم مہینے سمجھے جاتے ہیں، ان میں خاطر خواہ بارش نہ ہونے کے باعث ڈیم کے کیچمنٹ علاقے میں پانی کی آمد انتہائی کم رہی، جس سے آئندہ دنوں میں شہری علاقوں اور مختلف آبی فراہمی منصوبوں کو شدید آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔محکمہ آبپاشی کے مطابق مانجرا ڈیم کی مجموعی ذخیرہ گنجائش 224.093 ملین مکعب میٹر ہے، جبکہ اس وقت صرف 75.905 ملین مکعب میٹر پانی موجود ہے۔ اس طرح ڈیم کو مکمل بھرنے کے لیے اب بھی تقریباً 84 فیصد مزید پانی درکار ہے۔ مسلسل کم بارش کے باعث صورتحال تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 47 برسوں میں مانجرا ڈیم صرف 17 مرتبہ مکمل بھر سکا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس ڈیم سے کئی شہروں کو پینے کا پانی فراہم کیا جانے لگا، جس کے بعد اسے بنیادی طور پر پینے کے پانی کے ذخیرے کے طور پر محفوظ رکھا گیا۔ اس کے باعث آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی کم ہونے سے مقامی کسانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بارش کے اہم سلسلے گزرنے کے بعد اب شہریوں اور کسانوں کی امیدیں واپسی کے مانسون پر مرکوز ہیں۔ اگر آئندہ دنوں میں اچھی بارش نہ ہوئی تو مانجرا ڈیم پر انحصار کرنے والے شہروں اور دیہات میں پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ زرعی سرگرمیوں پر بھی سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے