
سرینگر، 5 اگست(ہ س)۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے اہل افراد کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنا انصاف، بحالی اور باعزت روزگار کی سمت ایک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ دہشت گردی سے متاثر ہر مستحق خاندان کو مناسب مدد، انصاف اور بحالی فراہم کی جائے۔
سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ میں تقرری نامے تقسیم کیے گئے، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ لمحہ ان خاندانوں کے لیے امید اور انصاف کی علامت ہے، جو برسوں سے حکومتی تعاون کے منتظر تھے۔
انہوں نے دہشت گردی میں جان گنوانے والے بے گناہ شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کی جان کا نعم البدل ممکن نہیں، نہ ہی کوئی مالی امداد یا سرکاری ملازمت اس خلا کو پُر کر سکتی ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں کو باوقار روزگار فراہم کرنا حکومت کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام سیکورٹی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر پولیس، فوج، سی آر پی ایف اور سول انتظامیہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور امن و امان کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف حکومت یا سیکورٹی فورسز کا مسئلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے ہر شہری کے امن اور ترقی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پوری سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے 5 اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے بعد جموں و کشمیر میں امتیازی قوانین کا خاتمہ ہوا اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں کے شہریوں کو بھی مساوی آئینی حقوق حاصل ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تبدیلیوں کے بعد 890 سے زائد مرکزی قوانین جموں و کشمیر میں نافذ کیے جا چکے ہیں، جس سے انتظامی نظام اور عوامی خدمات کے دائرے میں نمایاں اصلاحات آئی ہیں۔
انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے باعث ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ آئینی اصلاحات نے جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے اور مساوی حقوق کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ کئی متاثرہ خاندانوں کو برسوں بعد انصاف ملا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ شوپیاں کے ولی محمد وانی کے اہل خانہ کو، جو 1993 میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے، تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد سرکاری مدد ملی، جبکہ کپواڑہ کے عبدالحمید بھٹ اور ترال کے فاروق احمد میر کے خاندانوں کو بھی طویل انتظار کے بعد سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حکمرانی کے نظام کو شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا گیا ہے، جہاں سرکاری بھرتیوں اور عوامی خدمات میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان ہمدردی نہیں بلکہ مواقع چاہتے ہیں۔ ان کے اندر ملک کے دیگر حصوں کے نوجوانوں کی طرح صلاحیت، جدت اور کامیابی حاصل کرنے کی بھرپور استعداد موجود ہے، جسے فروغ دینے کے لیے حکومت مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سڑکوں، سرنگوں، ہوائی اڈوں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولتوں میں نمایاں بہتری سے نوجوانوں اور عوام کے لیے ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر منوج سنہا نے جموں و کشمیر پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کے ان اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قربانیاں ایک پرامن، محفوظ اور خوشحال جموں و کشمیر کی تعمیر کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت قانون کی حکمرانی، انصاف، سلامتی اور مساوی مواقع پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی تاکہ ماضی کے تلخ واقعات دوبارہ جنم نہ لیں اور ہر شہری امن، وقار اور امید کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir