
جموں، 05 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے، تاہم موصول ہونے والی سرمایہ کاری کی تجاویز کے مقابلے میں حقیقی سرمایہ کاری اب بھی کافی کم رہی ہے۔ اس کی وجہ سے بے روزگاری کے خاتمے کا ہدف تاحال دور نظر آ رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچ اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر کو ایک لاکھ 63 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئیں، لیکن عملی طور پر تقریباً 14 ہزار 948 کروڑ روپے کی ہی سرمایہ کاری ہو سکی۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں گزشتہ چار برسوں کے دوران 64 ہزار 515 افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 23-2022 سے اب تک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایک ہزار 452 نئی صنعتی اکائیاں قائم کی گئی ہیں۔ سال 23-2022 میں 629 صنعتی اکائیاں قائم ہوئیں، جن میں دو ہزار 153.45 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی اور 15 ہزار 719 افراد کو روزگار ملا۔ سال 24-2023 میں 234 اکائیوں میں تین ہزار 389.37 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی، جس سے 29 ہزار 969 افراد مستفید ہوئے۔اسی طرح سال 25-2024 میں 405 صنعتی اکائیاں قائم ہوئیں، جن میں چار ہزار 145.59 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی اور 11 ہزار 396 افراد کو روزگار ملا، جبکہ سال 26-2025 میں دسمبر تک 184 نئی صنعتی اکائیاں قائم کی گئیں، جن میں پانچ ہزار 260 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی اور سات ہزار 431 افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔
حکومت نے نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈپارٹمنٹ کے تحت نیو سینٹرل سیکٹر اسکیم-2021، جموں و کشمیر انڈسٹریل پالیسی 30-2021، انڈسٹریل لینڈ الاٹمنٹ پالیسی 30-2021، پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پالیسی 30-2021 اور فارن انویسٹمنٹ پروموشن پالیسی-2022 نافذ کر رکھی ہیں۔
یکم اپریل 2021 سے 30 ستمبر 2024 تک نافذ رہنے والی نیو سینٹرل سیکٹر اسکیم-2021 کے تحت سرمایہ کاروں کو مختلف مالی مراعات فراہم کی گئیں، تاہم اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد صنعتی سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ گئی۔
ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مرکز کو 28 ہزار 400 کروڑ روپے کے صنعتی پیکیج کو بڑھا کر 75 ہزار کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھیجی تھی، لیکن اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
اس وقت تقریباً آٹھ ہزار 306 سرمایہ کاری کی درخواستیں زیر التوا ہیں، جو نئے مالی پیکیج کی منظوری کی منتظر ہیں۔دریں اثنا جموں و کشمیر سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم کاروبار کے لیے آسان ماحول فراہم کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ تین اگست 2026 تک اس آن لائن نظام کے ذریعے آٹھ لاکھ 77 ہزار 561 درخواستوں کا ازالہ کیا جا چکا ہے، جن میں سے چھ لاکھ 92 ہزار 239 درخواستوں کو منظوری دی گئی، جو تقریباً 79 فیصد منظوری کی شرح بنتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر