جنگ بندی کے دوران ایران کادفاعی صلاحیت میں اضافے کا دعویٰ، میزائل اور ڈرون پروگرام مزید مضبوط بنانے کا اعلان
تہران،05اگست (ہ س)۔ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اس نے اپنی دفاعی تیاریوں اور عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اگر سفارتی مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو ملک ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ایرانی فوج
جنگ بندی کے دوران ایران کادفاعی صلاحیت میں اضافے کا دعویٰ، میزائل اور ڈرون پروگرام مزید مضبوط بنانے کا اعلان


تہران،05اگست (ہ س)۔ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اس نے اپنی دفاعی تیاریوں اور عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اگر سفارتی مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو ملک ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے عرصے کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں کو جدید بنایا گیا، دفاعی نظام کو مزید مضبوط کیا گیا، متاثرہ فوجی تنصیبات کی بحالی مکمل کی گئی اور نئی عسکری ٹیکنالوجی کی تیاری پر تیزی سے کام جاری رکھا گیا۔ترجمان کے مطابق حالیہ تنازع کے دوران نئی نسل کے ڈرون بھی استعمال کیے گئے، تاہم ان کی تکنیکی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔

دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران بھی میزائل اور ڈرون کی تیاری کا عمل ایک دن کے لیے بھی معطل نہیں ہوا۔ ان کے بقول ڈرونز کی پیداوار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا تک بڑھا دی گئی ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے باوجود ایرانی افواج نے اپنی کمان اور تنظیم برقرار رکھی اور نئی عسکری حکمتِ عملی کے ذریعے مخالف فریق کو حیران کر دیا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران میزائل سازی کی رفتار اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں مزید بہتری لائی گئی ہے، تاہم میزائل ذخائر یا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔ادھر بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد اور ڈرونز کا لگ بھگ 40 فیصد حصہ اب بھی موجود ہے، جس کی بنیاد پر وہ طویل مدت تک غیر روایتی جنگی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عرب میڈیا کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کو جلد چین میں تیار کردہ کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے تقریباً 400 فضائی دفاعی میزائل مل سکتے ہیں، تاہم چین اور پاکستان اس خبر کی تردید کر چکے ہیں جبکہ ایران نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔رپورٹ میں سابق ایرانی فوجی کمانڈر کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ہزاروں حملوں کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ملک میں مقامی دفاعی پیداوار، میزائلوں کی درستگی اور زیرِ زمین میزائل و ڈرون مراکز کی استعداد میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے نجران ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بحیرہ? احمر میں ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد تمام 14 ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور بحیرہ? احمر کے اطراف بحری سلامتی سے متعلق خدشات کے باعث صورتحال مسلسل حساس بنی ہوئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande