
نئی دہلی، 5 اگست(ہ س)۔ مرکزی حکومت نے آن لائن کمپنیوں کے لیے ذخیرہ اندوزی (انوینٹری) پر مبنی سرحد پار ای-کامرس برآمدات سے متعلق نئے ضابطوں کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ یہ فریم ورک خارجہ تجارتی پالیسی 2023 کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد بھارت میں تیار یا پیدا کی جانے والی اشیا کی ای-کامرس کے ذریعے برآمدات کو آسان اور منظم بنانا ہے۔وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) والی ای-کامرس کمپنیاں صرف تصدیق شدہ برآمدی آرڈرز کی بنیاد پر ہی سامان خرید سکیں گی۔ محض اندازوں کی بنیاد پر پہلے سے سامان ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔حکومت نے 23 جولائی کو ایسی ای-کامرس کمپنیوں کو صرف برآمدی مقاصد کے لیے گودام قائم کرنے کی اجازت دی تھی، جبکہ اب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے اس کے لیے باقاعدہ ضابطے بھی جاری کر دیے ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری والی ای-کامرس کمپنیوں کو حکومت کے ساتھ ’ایکسپورٹر آن ریکارڈ‘ (ای او آر) کے طور پر رجسٹر ہونا ہوگا۔ اس کے بعد وہ صرف برآمدات کے مقصد سے گودام قائم کر سکیں گی اور صرف تصدیق شدہ غیر ملکی آرڈرز کی بنیاد پر بھارتی ’سیلر آن ریکارڈ‘(ایس او آر) سے بھارت میں تیار شدہ اشیا خرید سکیں گی۔وزارت کے مطابق اس نظام سے بھارتی فروخت کنندگان کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جبکہ برآمدی دستاویزات، کسٹم کارروائیاں، درآمدی ملک کے ضابطوں کی پابندی، مصنوعات کی جانچ، سرٹیفکیشن، پیکجنگ، لیبلنگ، ترسیل، لاجسٹکس اور ریورس لاجسٹکس سمیت تمام ذمہ داریاں ایکسپورٹر آن ریکارڈ (ای او آر) ادا کرے گا۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے تحت صرف بھارت میں تیار یا پیدا کی گئی مصنوعات ہی برآمد کی جا سکیں گی۔ مزید برآں، اس مقصد کے لیے ایک علیحدہ قانونی ادارہ قائم کرنا ہوگا، جبکہ رجسٹریشن یا اس میں ترمیم کے وقت کمپنی کو اپنی شیئر ہولڈنگ، ملکیت اور کنٹرول سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنا بھی لازمی ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan