
حیدرآباد ، 5 اگست (ہ س)۔
کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار وزارت میں توسیع کے بعد تلنگانہ وزارت میں توسیع کے امکانات ظاہرکئے جارہے ہیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی سطح پر اگرچہ اِس بارے میں وزارت کے دعویداروں کو کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئ ہے تاہم وزیراعلی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں توسیع یا وزراء کی تبدیلی کا معاملہ ہائی کمان کے زیرغورہے۔ ہائی کمان نے وزیراعلی ریونت ریڈی اوردیگر قائدین سے حالیہ دورہ دہلی کے موقع پر کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تاہم توسیع کی صورت میں ناراض سرگرمیوں کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے ہائی کمان نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلی ریونت ریڈی کو بھی توسیع کے معاملہ میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار کے وزیراعلی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد محض 2 مراحل میں مکمل کابینہ تشکیل دے دی گئی اور34 وزراء نے حلف لے لیا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے 18 وزراء کی گنجائش ہے اوروزیراعلی کے بشمول 16 وزراء موجود ہیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد سے مکمل کابینہ تشکیل نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں وزارت کے خواہشمندوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بعض ایسے دعویدار ہیں جن سے پارٹی ہائی کمان نے وزارت کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک تکمیل نہیں ہوسکی۔ وزیراعلی کے قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ2 مخلوعہ وزارتوں پر بھرتی کے علاوہ کارکردگی کی بنیاد پربعض وزراء کی علیحدگی ممکن ہے پارٹی ہائی کمان نے وزراء کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 4 وزراء کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں ہے اوراُن کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ اضلاع رنگاریڈی، نلگنڈہ اور نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی وزارت میں شمولیت کے لئے سرگرمی سے پیروی کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور اسپیکراسمبلی جی پرساد کمارکوکابینہ میں شامل کرتے ہوئے اُن کی جگہ نئے چہروں کو پردیش کانگریس کی صدارت اور اسپیکر کے عہدہ کی ذمہ داری دی جائے گی۔ پرساد کمار کی کابینہ میں شمولیت کی صورت میں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی اور رکن اسمبلی کا انتخاب کیا جائے گا۔ اِسی دوران اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن نے حکومت کی کارکردگی اور وزراء کے رول پر ہائی کمان کو رپورٹ پیش کردی ہے۔ لیکن ہائی کمان کے لئے کابینہ میں توسیع یا تبدیلی کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ 2 نشستوں کے لئے 10 سے زائد دعویدارہیں اورشمولیت یا تبدیلی کی صورت میں ریاست میں پارٹی کی سطح پر ناراض سرگرمیاں شدت اختیار کرسکتی ہیں جس کا راست طور پر اپوزیشن کو فائدہ ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق