تین کروڑ روپے مالیت کی 364 میٹرک ٹن ممنوعہ پاکستانی خشک کھجور ضبط
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س)۔ محکمہ محصولات کی انٹیلی جنس یونٹ (ڈی آر آئی) نے ممنوعہ 364 میٹرک ٹن (ایم ٹی) پاکستانی خشک کھجور ضبط کی ہے، جس کی بازار میں مالیت تقریباً تین کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ بھارت نے پاکستان سے آنے والے سامان کی درآمد پر پابندی عائد
تین کروڑ روپے مالیت کی 364 میٹرک ٹن ممنوعہ پاکستانی خشک کھجور ضبط


نئی دہلی، 5 اگست (ہ س)۔ محکمہ محصولات کی انٹیلی جنس یونٹ (ڈی آر آئی) نے ممنوعہ 364 میٹرک ٹن (ایم ٹی) پاکستانی خشک کھجور ضبط کی ہے، جس کی بازار میں مالیت تقریباً تین کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ بھارت نے پاکستان سے آنے والے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

وزارتِ خزانہ نے بدھ کے روز جاری اپنے بیان میں بتایا کہ ڈی آر آئی نے ایک ایسے معاملے کا انکشاف کیا ہے جس میں پاکستان سے درآمد کی جانے والی اشیا کو تیسرے ممالک کے ذریعے خفیہ طور پر بھیج کر ان کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی جا رہی تھیں۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً تین کروڑ روپے مالیت کی 364 میٹرک ٹن خشک کھجور ضبط کی گئی، جو پاکستان سے درآمد کی گئی تھی۔

وزارت کے مطابق خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی اس کارروائی میں ڈی آر آئی کے افسران نے کنڈلا بندرگاہ پر درآمد کیے گئے 13 کنٹینروں کو ضبط کیا، جن میں 364 میٹرک ٹن خشک کھجور بھری ہوئی تھی اور جن کی مالیت تقریباً تین کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کھجوروں کو متحدہ عرب امارات سے درآمد شدہ ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ حقیقت میں یہ پاکستان تھیں۔

وزارتِ خزانہ نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے بھی ڈی آر آئی کے افسران نے توتیکورین بندرگاہ پر تقریباً 1.4 کروڑ روپے مالیت کی تقریباً 14 میٹرک ٹن پاکستانی خشک کھجور درآمد کرنے کی کوشش کا پردہ فاش کیا تھا۔ اس کھیپ کو صومالیہ سے حاصل شدہ قدرتی کھجور کے طور پر غلط طور پر ظاہر کیا گیا تھا اور اسے دبئی کے راستے بھیجا گیا تھا۔ ڈی آر آئی کی تحقیقات اس میں درآمدی پابندی کی خلاف ورزی پائی گئی ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ بھارت نے پاکستان سے آنے والے تمام سامان کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کی نوٹیفکیشن نمبر 06/2025-26 مؤرخہ 02 مئی 2025 کے تحت ترمیم شدہ خارجہ تجارتی پالیسی 2023 کے مطابق، پاکستان میں پیدا ہونے والی یا وہاں سے برآمد کی جانے والی تمام اشیا کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد یا ٹرانزٹ 2 مئی 2025 سے ممنوع قرار دی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande