
جموں, 5 اگست (ہ س): کرائم برانچ جموں نے آر ٹی او جموں میں مبینہ ریونیو فراڈ کے 17 سال پرانے مقدمے کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ حکام کے مطابق مقدمہ 2009 میں آر ٹی او جموں میں ون ٹائم ٹوکن ٹیکس کی وصولی میں بے ضابطگیوں اور جعلی پبلک سروس وہیکل ڈرائیونگ سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کے الزامات پر درج کیا گیا تھا۔
کرائم برانچ کے ترجمان نے بتایا کہ چارج شیٹ ایڈیشنل سیشنز جج (اینٹی کرپشن) جموں کی عدالت میں پیش کی گئی۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ گاڑی مالکان سے وصول کیے گئے ون ٹائم ٹوکن ٹیکس کی اصل رقم کے بجائے سرکاری ریکارڈ میں کم رقم درج کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو 12.97 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پبلک سروس وہیکل ڈرائیونگ لائسنس کی توثیق حاصل کرنے کے لیے جعلی ڈرائیونگ انسٹی ٹیوٹ سرٹیفکیٹ، فرضی دستاویزات اور جعلی تصدیقات استعمال کی گئیں۔ترجمان کے مطابق ضبط شدہ ریکارڈ، گواہوں کے بیانات اور ایف ایس ایل جموں کی فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر یہ ثابت ہوا کہ کل بھوشن شرما، منیجنگ ڈائریکٹر شیوم انسٹی ٹیوٹ آف ڈرائیونگ اینڈ مینٹیننس اور راج کمار نے مبینہ طور پر ملی بھگت سے جعلی پی ایس وی سرٹیفکیٹ تیار کیے۔
تحقیقات کے دوران متعدد مستفید افراد نے بیان دیا کہ انہوں نے مذکورہ ادارے میں لازمی تربیت حاصل نہیں کی تھی، اس کے باوجود ان کے نام پر سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔ کرائم برانچ کے مطابق، مزید تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے ادارے کا ریکارڈ تلف کر دیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر